پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل باضابطہ طور پر مکمل ہو گیا ہے جس میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی لگا کر قومی ایئر لائن کے 75 فیصد شیئرز خرید لیے ہیں۔
نجکاری کے عمل کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے کچھ لوگ اسے کمپنی کی بہتری اور اقتصادی اصلاحات کی جانب مثبت قدم قرار دے رہے ہیں تو کچھ حلقے اس کی مذمت کرتے نظر آئے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری ملکی معیشت پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے، خواجہ آصف کا اظہار اطمینان
فرحان ورک نے لکھا کہ خبر یہ نہیں کہ پی آئی اے کو 135 ارب میں بیچا گیا ہے اصل خبر یہ ہے کہ پچھلے 10 سال میں پی آئی اے نے پاکستان کو 700 سے 800 ارب روپے کا نقصان دیا ہے جو کہ اب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ پرائیویٹ سیکٹر سفارشی بھرتیوں کی بجائے میرٹ پر کام کرکے کو بہتر کرے گا اور یہ وزیر اعظم کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
خبر یہ نہیں کہ PIA کو 135 ارب میں بیچا گیا ہے!
اصل خبر یہ ہے کہ پچھلے دس سال میں پی آئی اے نے پاکستان کو 700 سے 800 ارب روپے کا نقصان دیا ہے جو کہ اب نہیں ہوگا
انشاءاللہ پرائیویٹ سیکٹر سفارشی بھرتیوں کی بجائے میرٹ پر کام کرکے PIA کو بہتر کرے گا
وزیر اعظم کی بہت بڑی کامیابی ہے pic.twitter.com/C2xhpUo4Ch
— Dr Farhan K Virk (@FarhanKVirk) December 23, 2025
مبشر زیدی لکھتے ہیں کہ پی آئی اے کی نجکاری ایک مثبت پیش رفت ہے۔
PIA privatisation is a good development #Pakistan #Privatisation
— Mubashir Zaidi (@xadeejourno) December 23, 2025
سعدیہ مظہر نے لکھا کہ یہ عوام کا اثاثہ تھا اور اسے حکمرانوں نے بیچ دیا۔
یہ عوام کا اثاثہ تھا اور اسے حکمرانوں نے بیچ دیا pic.twitter.com/CLGkwlsHGS
— Saddia Mazhar|سعدیہ مظہر (@SaddiaMazhar) December 23, 2025
ایک صارف نے لکھا کہ جب پی آئی اے بک سکتی ہے تو کچھ بھی بک سکتا ہے۔
جب پی آئی اے بک سکتی ہے تو کچھ بھی بک سکتا ہے۔ جب حکومت بیچ سکتی ہے تو آپ کیوں نہیں؟https://t.co/d6SVCu9AX0
— Mohsin Hijazee (@MohsinHijazee) December 23, 2025
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے کہا کہ وہ اس عمل کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ پاکستان کو پی آئی اے کو دوبارہ فضاؤں میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
I dont think you understand how the deal works. Govt will be putting back most of the proceeds from the sale of PIA back into PIA. So buyers get their paid sum back. Net payment is still Rs 10 billion.
But I still support this transaction. Pakistan needs PIA back in the skies. https://t.co/N2WpWEvhB1— Hammad Azhar (@Hammad_Azhar) December 23, 2025
وقار خان نے پی آئی اے خریدنے والے عارف حبیب کی ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نےکہا کہ ہم نے حکومت کو صرف دس ارب روپیہ ہی دینا ہے باقی 125 ارب روپے ہم اپنی کمپنی پر لگائیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر حکومت کو صرف دس ارب ہی دینا ہے تو پی آئی اے 135 ارب میں کیسے بکی؟
ہم نے حکومت کو صرف دس ارب روپیہ ہی دینا ہے باقی 125 ارب روپے ہم اپنی کمپنی پر لگائیں گے
PIA خریدنے والے عارف حبیب کا انکشاف
اگر حکومت کو صرف دس ارب ہی دینا ہے تو 135 ارب میں PIA کیسے بکی ؟ pic.twitter.com/qGPIv4ioqI— Waqar khan (@Waqarkhan123) December 23, 2025
صدیق جان لکھتے ہیں کہ پی آئی آئی کا 654 ارب کا قرضہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ادا کیا جاتا رہے گا مگر منافع دس ارب دینے والے کمائیں گے۔
پی آئی آئی کا 654 ارب کا قرضہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ادا کیا جاتا رہے گا مگر منافع دس ارب دینے والے کمائیں گے
— Siddique Jan (@SdqJaan) December 23, 2025
صحافی سرل المیدہ نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ صرف پاکستان میں ہی ایسا ممکن ہے، زیادہ بیچ کر کم حاصل کرنا۔
Only in Pakistan… selling more for less… https://t.co/rKIuYQBLIZ
— cyril almeida (@cyalm) December 23, 2025
عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ پی آئی اے بک گئی ہے اب کراچی، اسلام آباد کا ٹکٹ کتنے میں ملے گا؟
پی آئی اے بک گئی ، اب کراچی اسلام آباد کا ٹکٹ کتنے میں ملے گا؟
— Abdul Qayyum Siddiqui (@QayyumReports) December 23, 2025
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پی آئی اے کی نجکاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اس معاملے پر کریڈٹ لینے کے بجائے قوم سے معافی مانگنی چاہیے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما چوہدری منظور احمد نے پی آئی اے کی نجکاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری ایم سی بی سے بڑا اسکینڈل ثابت ہو گی ہے اور اس سے پاکستان کے مفادات کی جیت نہیں ہوئی ہے۔
پی ائی اے کی نجکاری پر حکومتی مشینری اور وزراء قوم کو گمراہ کر رہے ہیں, یہ پاکستان کی نہیں بلکہ عارف حبیب اور اسکے مفادات کی جیت ہے۔پاکستان کی تو ہار ہوئی ہے جس گھر کے برتن بکیں اس کی جیت کیسے ہو سکتی ہے؟
یہ پاکستان کے اثاثے ہیں جن کو اونے پونے داموں میں بیچا گیا ہے۔ پی ائی اے…— Ch. Manzoor Ahmed (@Ch_ManzoorAhmed) December 23, 2025
واضح رہے کہ عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا ہے۔ نجکاری کے تیسرے مرحلے میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی دے کر پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز حاصل کیے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری پر خیبرپختونخوا حکومت کا شدید ردعمل، وفاقی حکومت سے معافی مانگنے کا مطالبہ
لکی کنسورشیم 134 ارب روپے کی بولی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ اس سے قبل بولی کے پہلے مرحلے میں لکی کنسورشیم نے 101.5 ارب روپے کی پیشکش کی تھی، جبکہ ایئر بلیو نے 26 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی لگائی تھی، اور عارف حبیب کنسورشیم نے اس مرحلے میں 115 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی دی تھی۔
بولی کے دوسرے مرحلے میں لکی کنسورشیم نے اپنی بولی بڑھا کر 120.25 ارب روپے کر دی، جبکہ عارف حبیب کنسورشیم نے 121 ارب روپے کی نئی بولی پیش کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے میں بہت زیادہ پوٹینشل، 100 فیصد شیئرز خریدنا چاہتے تھے: عارف حبیب
خیال رہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے پی آئی اے کی فروخت کے لیے کم سے کم قیمت 100 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔ اس سے قبل پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش کے دوران بلیو ورلڈ سٹی نامی ریئل اسٹیٹ کمپنی نے 10 ارب روپے میں قومی ایئر لائن خریدنے کی پیشکش کی تھی جسے ریزرو پرائس سے کافی کم ہونے پر مسترد کر دیا گیا تھا۔














