برطانیہ میں ایک ہولناک ریپ اور قتل کا مقدمہ، جو تقریباً 6 دہائیوں تک معمہ بنا رہا، بالآخر 58 سال بعد حل ہو گیا ہے۔
یہ واقعہ جون 1967 میں پیش آیا تھا جب برسٹل کے علاقے ایسٹن میں 75 سالہ لوئیزا ڈن کو ان کے گھر میں ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا۔ اس وقت پولیس نے وسیع پیمانے پر تحقیقات کیں، مگر قاتل کو گرفتار نہ کیا جا سکا اور مقدمہ سرد خانے کی نذر ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کے قتل کا مقدمہ درج، مشتبہ شخص گرفتار
ابتدائی تفتیش میں پولیس کو صرف ایک کھڑکی سے ملنے والا ہتھیلی کا نشان ملا تھا۔ 8 ہزار سے زائد گھروں کی تلاشی لی گئی اور تقریباً 19 ہزار افراد کے ہتھیلی کے نشانات جمع کیے گئے، لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ جدید فرانزک سہولیات نہ ہونے کے باعث کیس برسوں تک حل نہ ہو سکا۔
یہ مقدمہ 2023 میں اس وقت دوبارہ کھولا گیا جب ایون اینڈ سومرسیٹ پولیس کی کرائم ریویو افسر جو اسمتھ نے پرانے ریکارڈز کا جائزہ لیا۔ ایک گودام میں محفوظ شواہد کے پرانے ڈبے ملے جو کبھی جدید فرانزک جانچ سے نہیں گزرے تھے۔ ان میں مقتولہ کے کپڑے بھی شامل تھے۔
ڈی این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے شواہد کی دوبارہ جانچ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک واضح ڈی این اے پروفائل حاصل ہوا۔ اگست 2024 میں یہ ڈی این اے 92 سالہ رائلینڈ ہیڈلی سے میچ ہوا، جو اس وقت ایپس وچ میں رہ رہا تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ہیڈلی کا ماضی بھی سنگین جرائم سے بھرا ہوا تھا اور وہ 1970 کی دہائی میں 2 معمر خواتین کے ریپ کا مجرم رہ چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: صحافی خاور حسین کی لاش کار سے ملنے کا معاملہ، پولیس کی تفتیشی ٹیم سانگھڑ پہنچ گئی
عدالت نے جون 2025 میں ہیڈلی کو لوئیزا ڈن کے ریپ اور قتل کا مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی، جس کا مطلب ہے کہ وہ بقیہ زندگی جیل میں گزارے گا۔
یہ فیصلہ نہ صرف مقتولہ کے خاندان کے لیے دیر سے ملنے والا انصاف ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جدید سائنس اور مسلسل کوششوں کے ذریعے دہائیوں پرانے جرائم بھی بے نقاب کیے جا سکتے ہیں۔














