تہران میں افغانستان کے سابق پولیس چیف اور طالبان حکومت کے سخت ناقد اکرام الدین سری کو قتل کر دیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اکرام الدین سری کو تہران کی ولی عصر اسٹریٹ پر اپنے دفتر سے نکلتے ہوئے گولی مار دی گئی۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
مزید پڑھیں: معروف اداکارہ امانی ڈایا اسمتھ نیو جرسی میں قتل، بوائے فرینڈ گرفتار
اکرام الدین سری افغانستان کی سابق حکومت میں سیکیورٹی کمانڈر کے عہدوں پر فائز رہے اور صوبہ تخار اور بغلان کے پولیس سربراہ بھی رہ چکے تھے۔ طالبان کے اقتدار کے بعد انہوں نے ایران میں پناہ حاصل کر لی تھی اور وہاں سے حکومت کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔
ایران کے حکام نے اس حملے کو ٹارگٹڈ حملہ قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: دہائیوں تک معمہ رہنے والا ریپ اور قتل کا مقدمہ 58 سال بعد کیسے حل ہوا؟
یاد رہے کہ ستمبر میں مشہد میں طالبان مخالف رہنما اسماعیل خان کے قریبی ساتھی مروف غلامی کو بھی ان کے دفتر میں فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا، جو علاقے میں بڑھتے طالبان مخالف تشدد کا عکاس ہے۔














