جاپان کے شیزوکا ریجن کے شہر میشیما میں واقع ایک ربڑ فیکٹری میں چاقو سے حملے کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی ایمرجنسی سروسز کے ایک عہدیدار کے مطابق حملے کے دوران ایک نامعلوم مائع بھی چھڑکا گیا۔
فائر فائٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار توموہارو سوگی یاما نے بتایا کہ جمعے کے روز تقریباً شام 4:30 بجے ایک قریبی ربڑ فیکٹری سے کال موصول ہوئی، جس میں اطلاع دی گئی کہ کچھ افراد کو کسی شخص نے چاقو مارا ہے اور ساتھ ہی اسپرے جیسا مائع بھی استعمال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: لندن جانے والی ٹرین میں چاقو حملہ، 10 افراد زخمی، 2 گرفتار
سوگی یاما کے مطابق 14 زخمیوں کو ایمرجنسی سروسز کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جن میں سے کم از کم 6 افراد کو ایمبولینسوں کے ذریعے اسپتال پہنچایا گیا۔ زخمیوں کی نوعیت اور حالت کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں، تاہم جاپانی سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے کے مطابق تمام متاثرین ہوش میں ہیں۔
جاپانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ پولیس نے ایک شخص کو اقدامِ قتل کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ حملہ میشیما میں واقع یوکوہاما ربڑ کمپنی کی فیکٹری میں ہوا، جو ٹرکوں اور بسوں کے ٹائروں سمیت مختلف ربڑ مصنوعات تیار کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تائیوان میں مسلح شخص کا چاقو سے شہریوں پر حملہ، 3 افراد ہلاک، 5 زخمی
واضح رہے کہ جاپان میں پرتشدد جرائم کی شرح نسبتاً کم ہے اور یہاں اسلحہ قوانین دنیا کے سخت ترین قوانین میں شمار ہوتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود کبھی کبھار چاقو حملوں یا فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جن میں 2022 میں سابق وزیر اعظم شنزو آبے کا قتل بھی شامل ہے۔












