لاہور میں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کے دوران حکومت کے اہم اقدامات اور جاری منصوبوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کچرے کے نظام، پولیس و امن و امان، اور فلیگ شپ پروگراموں پر ہونے والی پیش رفت کی وضاحت کی۔
یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ کیس ٹو: یہ فیصلہ ان کے لیے سبق ہونا چاہیے، جو عمران خان کو صادق و امین کہتے رہے، اعظمیٰ بخاری
عظمیٰ بخاری کے مطابق پنجاب میں کچرے کے انتظام کے لیے علیحدہ اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں 58 تھرمل ہتھیار، نئی گنز، گولیاں، اور دیگر ضروری آلات شامل ہیں۔ کچے کے علاقوں کے آپریشن کے لیے 4 نئے ٹریک اے پی سیز اور اسپیشل برانچ کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں خریدی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، اینٹی رائٹ مینجمنٹ فورس کے لیے خصوصی گاڑیاں اور کچے کے علاقوں میں گشت کے لیے 25 ڈبل کی گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کے لیے 67 گاڑیاں بلٹ پروف کے ساتھ تیار کی گئی ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ چیف منسٹر پنجاب نے 90 کے قریب مختلف اقدامات کا آغاز کیا ہے اور ہر منصوبے کی تفصیل فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فلیگ شپ پروگرام ملک میں سب سے بڑے پروگراموں میں سے ایک ہے، جس میں ایک لاکھ 13 ہزار کارکن اور 2,418 انتظامی افسران کام کر رہے ہیں۔ پروگرام میں 30 ہزار کے قریب گاڑیاں اور 2,86,751 آلات و مشینری استعمال کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام میں 44 ہزار ویسٹ انکلوژرز، 409 عارضی کلیکشن پوائنٹس اور 4,000 ٹن کوڑا ٹھکانے لگایا جا چکا ہے۔ شکایات کے لیے ایک ہیلپ لائن اور ڈیش بورڈ موجود ہے، جس کے ذریعے شہری اپنی شکایات اپلوڈ کر سکتے ہیں اور فوری کارروائی کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو کیس: ملزمان پر فردِ جرم عائد، گواہ طلب
عظمیٰ بخاری نے فیز ٹو کے حوالے سے بتایا کہ بایو گیس پائلٹ پروجیکٹ اور سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں 150 میگا واٹ پاور پلانٹ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس فیز میں 99 فیصد کچرے کے کنٹینرز، 83 فیصد احاطہ، اور 92 فیصد ٹرانسفر پوائنٹس فعال ہیں۔
وزیر اطلاعات نے پنجاب کے رہائشی منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ 50,000 گھروں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور 70,226 گھر زیر تعمیر ہیں، جو کل ایک لاکھ 25 ہزار گھروں کے ہدف کے قریب ہیں۔ ہر گھر میں رہائشیوں کے لیے بغیر سود کے قرضہ دستیاب ہے، جس کی ماہانہ قسط تقریباً 14 ہزار روپے ہے، تاکہ کم آمدنی والے خاندان اپنے گھر کے مالک بن سکیں۔














