نئے سال کی آمد پر جہاں لاکھوں افراد صحت مند غذا اور جسمانی فٹنس کو اپنا ہدف بناتے ہیں، وہیں نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ عادات نہ صرف جسمانی صحت بلکہ بہتر اور پُرسکون نیند میں بھی نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اچھی غذا اور باقاعدہ ورزش نیند کے معیار کو بہتر بنانے کے مؤثر ذرائع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:نیند کی کمی دماغ کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے، تحقیق میں انکشاف
امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمی بہتر نیند کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزن کم کرنے یا فٹ رہنے کے لیے اختیار کی جانے والی عادات دراصل نیند کے معیار کو بھی بہتر بناتی ہیں۔

اکیڈمی کے 2025 کے سلیپ پرائرٹائزیشن سروے میں امریکا کے 2007 بالغ افراد سے رائے لی گئی، جس میں 59 فیصد افراد نے کہا کہ متوازن غذا ان کی نیند بہتر بناتی ہے۔ اسی طرح 42 فیصد افراد نے بتایا کہ صبح کی ورزش سے ان کی نیند میں بہتری آتی ہے، جبکہ 46 فیصد افراد نے شام کی ورزش کو فائدہ مند قرار دیا۔
اکیڈمی کی ترجمان ڈاکٹر کن یوئن کے مطابق نیند صحت مند طرزِ زندگی کے 3 بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے، جن میں متوازن غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر نئے سال کے عزم وزن یا ورزش تک محدود ہوتے ہیں، مگر یہ عادات نیند سمیت مجموعی صحت کو بھی بہتر بناتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وہ حیرت انگیز غذائیں جو نیند کو بہتر بناتی ہیں!
تحقیق میں خاص طور پر 25 سے 34 سال کی عمر کے افراد نے اعتراف کیا کہ صحت مند غذا اور ورزش نے ان کی نیند پر براہِ راست مثبت اثر ڈالا۔ ماہرین کے مطابق مناسب نیند نہ صرف تازگی کا احساس دیتی ہے بلکہ موٹاپے، دل کی بیماریوں، ڈپریشن اور بے چینی جیسے دائمی امراض کے خطرات کو بھی کم کرتی ہے۔

امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن نے بہتر نیند کے لیے چند عملی تجاویز بھی دی ہیں، جن میں روزانہ ایک ہی وقت سونے کی عادت، کم از کم سات گھنٹے کی نیند، پسندیدہ جسمانی سرگرمی اپنانا، صحت بخش غذا کا استعمال اور سونے سے پہلے موبائل فون اور کمپیوٹر سے پرہیز شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نیند کو صحت کی بنیاد سمجھ کر ترجیح دی جائے تو نئے سال کے عزم زیادہ دیرپا اور مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔














