پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ شہر کو ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام پارٹی کے ساتھ تعاون کریں تو سندھ ترقی کرے گا۔
لاڑکانہ میں شہید محترمہ بے نظیر میڈیکل یونیورسٹی کے 7ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کا کسی صوبے سے نہیں بلکہ اب دنیا سے مقابلہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس کلیکشن میں سندھ سب سے آگے، معیشت کو ڈنڈے کے زور پر نہیں چلایا جا سکتا، بلاول بھٹو
بلاول بھٹو نے فارغ التحصیل طلبا کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں۔
Chairman @BBhuttoZardari attended the 7th Convocation of Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto Medical University as the Chief Guest. pic.twitter.com/KfI7Tj3WSo
— Maryam Bhutto (@BhuttoMaryam) December 29, 2025
طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ نے اب عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے اور اپنے صوبے کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینی ہیں۔۔
انہوں نے ڈاکٹروں اور نرسوں کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کو بھی کسی وبا کا سامنا ہوا، ہمارے ڈاکٹروں اور نرسوں نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے صحت کے شعبے میں سندھ کی ترقی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سندھ میں شعبہ صحت کو ترجیح دی گئی۔
مزید پڑھیں: صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کا لاہور آنے کا مقصد کیا تھا؟
’ہم صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔‘
بلاول بھٹو نے نے بینظیر بھٹو کے مشن کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ بنیادی حقوق کی بات کرتی رہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج صرف ڈگریاں نہیں دی جا رہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا چیلنج بھی دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کو انتہا پسندی چھوڑ کر سیاست کے دائرے میں آنا چاہیے، بلاول بھٹو زرداری
انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی علاج فراہم کرنا ہر ڈاکٹر کا فرض ہے اور وائیٹ کوٹ صرف لباس نہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور یقین کی نشانی ہے۔
بلاول بھٹو کے مطابق ایک اچھا ڈاکٹر وہی ہوتا ہے جو اچھا انسان بھی ہو۔
انہوں نے فارغ التحصیل طلبا کی کامیابی کا سہرا والدین کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ آج کی اس کامیابی میں والدین کا کردار قابلِ تحسین ہے۔
مزید پڑھیں: سیاست نہیں ہماری بات کریں، بالکونی میں کھڑی خاتون اور بلاول بھٹو کے درمیان دلچسپ مکالمہ
واضح رہے کہ کانووکیشن کے موقع پر مجموعی طور پر 317 گریجویٹس میں ڈگریاں تقسیم کی گئیں، ان میں چانڈکا میڈیکل کالج کے 115، مہران میڈیکل کالج سکھر کے 29، بی بی آصفہ ڈینٹل کالج کے 29، بینظیر نرسنگ کالج کے 80، انسٹیٹیوٹ آف فارمیسی کے 29 اور انسٹیٹیوٹ آف فزیوتھراپی کے 35 گریجویٹس شامل تھے۔
تقریب میں 38 طلبہ کو سونے، چاندی اور کانسی کے تمغوں سے نوازا گیا جبکہ سب سے زیادہ گولڈ میڈلز طالبات نے حاصل کیے۔













