امریکا میں قائم سکھ علیحدگی پسند تنظیم سکھس فار جسٹس (SFJ) نے کہا ہے کہ وہ شہید عثمان ہادی کے قتل میں ملوث افراد کی شناخت، گرفتاری اور واپسی میں مدد دینے والی قابلِ اعتماد معلومات پر 50 لاکھ ٹکہ انعام دے گی۔
تنظیم کا دعویٰ ہے کہ قتل میں ملوث ملزمان واقعے کے بعد بھارت فرار ہو گئے تھے۔
SFJ کا یہ اعلان ڈھاکا پولیس کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ عثمان ہادی کے قتل میں ملوث افراد ملک سے فرار ہو گئے ہیں اور ان کی بیرونِ ملک موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔
سکھس فار جسٹس کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ تنظیم بھارتی حکومت کے اس کردار کو بے نقاب کرے گی جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ سرحد پار اور بین الاقوامی سطح پر کارروائیوں میں ملوث ہے۔
پنوں کے مطابق ان کے پاس موجود معلومات کی بنیاد پر عثمان ہادی کے قتل کی کارروائی دیگر مبینہ سرحد پار قتل کے واقعات سے مماثلت رکھتی ہے، جن میں کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کا قتل بھی شامل ہے۔
View this post on Instagram
پنوں نے دعویٰ کیا کہ قتل کے احکامات دہلی سے دیے گئے، منصوبہ بندی ڈھاکہ میں واقع بھارتی ہائی کمیشن سے کی گئی، اور مبینہ طور پر عملدرآمد ڈھاکہ میں بھارت سے منسلک افراد کے ذریعے ہوا۔
SFJ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ڈھاکہ میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر پرنئے ورما اس منصوبہ بندی اور موقع پر رابطہ کاری کے ذمہ دار تھے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی بنیاد پر عوامی تعاون حاصل کرنے کے لیے انعام رکھا گیا ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کی شناخت، گرفتاری اور واپسی ممکن بنا سکیں۔
تنظیم کے مطابق انعام کا مقصد تحقیقات میں پیش رفت اور مبینہ طور پر ذمہ دار عناصر کے احتساب کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، ان الزامات پر بھارتی حکام یا متعلقہ فریقین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔














