امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ یہ رابطہ اس ملاقات کے ایک دن بعد ہوا جب صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی تھی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ صدر ٹرمپ نے یوکرین کے معاملے پر صدر پیوٹن کے ساتھ ایک مثبت کال مکمل کی ہے، جس کے ساتھ ہی انہوں نے دو دن میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی دوسری گفتگو کی تصدیق کی۔
مزید پڑھیں: یوکرین نے صدر پیوٹن کی رہائشگاہ کو ڈرون سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، روس کا الزام
روسی صدر کے خارجہ امور کے معاون یوری اوشاکوف نے بھی دونوں صدور کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کی تصدیق کی، جس کی خبر روسی سرکاری نیوز ایجنسی نے دی۔ اوشاکوف کے مطابق صدر پیوٹن کو صدر ٹرمپ اور ان کے سینیئر مشیروں کی جانب سے یوکرین کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر بریفنگ دی گئی۔
یہ فون کال ایسے وقت میں ہوئی جب ماسکو نے کیف پر شمالی روس میں صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کرنے کا الزام عائد کیا اور خبردار کیاکہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی مذاکراتی پوزیشن پر نظرِ ثانی کرے گا۔
یوری اوشاکوف نے کہاکہ صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ یوکرینی ڈرون حملے کے بعد روس امن مذاکرات میں اپنی پوزیشن کا جائزہ لے گا۔
دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی نے روس پر امریکا کی قیادت میں ہونے والی سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہاکہ روس ایک بار پھر خطرناک بیانات دے کر صدر ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ ہماری مشترکہ سفارتی کوششوں کی تمام کامیابیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ حملے کو مکمل من گھڑت قرار دیا اور کہاکہ اسے یوکرین پر مزید حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہاکہ یوکرین نے نوگوروڈ ریجن میں صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز سے حملے کی کوشش کی۔
ان کا دعویٰ تھا کہ تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ لاوروف نے اس حملے کو ریاستی دہشتگردی قرار دیا اور کہا کہ ماسکو نے ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے اہداف پہلے ہی منتخب کر لیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے 28 دسمبر کو مار اے لاگو میں یوکرینی صدر زیلنسکی کی میزبانی کی، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان دو گھنٹے سے زیادہ دورانیے کی دوطرفہ بات چیت ہوئی، جس کے بعد یورپی رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔
اس ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ نے صدر پیوٹن سے فون پر بات کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ زیلنسکی سے ملاقات سے پہلے پیوٹن کے ساتھ ان کی اچھی اور نہایت نتیجہ خیز گفتگو ہوئی۔
زیلنسکی کے ساتھ مذاکرات کے بعد صدر ٹرمپ نے کہاکہ قریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اہم مسائل ابھی حل طلب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ابھی حل نہیں ہوا، لیکن کافی قریب آ چکا ہے۔ وہ روس اور یوکرین کے درمیان علاقائی تنازع کا حوالہ دے رہے تھے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ چند ہفتوں میں طے پا سکتا ہے، تاہم اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ یوکرین میں ریفرنڈم کے انتظامات کے دوران عارضی جنگ بندی قابلِ عمل نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی نہیں ہے، اور یہی ان نکات میں سے ایک ہے جن پر ہم اس وقت کام کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ امن کے حامی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ کوئی حل نکل آئے گا۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہاکہ دونوں صدور اس بات پر عمومی طور پر متفق تھے کہ یوکرینی اور یورپی ممالک کی جانب سے تجویز کردہ عارضی جنگ بندی تنازع کو طول دے گی اور دوبارہ لڑائی شروع ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔
چار فریقی معاہدے کی خواہش
پیر کے روز صدر زیلنسکی نے صحافیوں کو بتایا کہ کسی بھی امن منصوبے کی توثیق چار فریقوں کی جانب سے ہونی چاہیے جن میں یوکرین، روس، امریکا اور یورپ شامل ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی منصوبے پر چاروں فریقوں، یوکرین، یورپ، امریکا اور روس کے دستخط ضروری ہیں۔
کیف نے جنگ کے خاتمے کے لیے دستاویزات کی تیاری شروع کرنے کی غرض سے یورپی اور امریکی حکام کے ساتھ مشاورتی سطح پر اجلاس کی میزبانی کی بھی تجویز دی ہے۔
زیلنسکی کے مطابق سلامتی کی ضمانتیں یوکرین کی اولین ترجیح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے 15 سالہ ضمانتوں کی پیشکش کی ہے، جن میں توسیع کا امکان بھی موجود ہے، تاہم یوکرین اس سے کہیں طویل مدت چاہتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے 30، 40 یا 50 سال کی ضمانتوں پر غور کرنے کی درخواست کی ہے، جس پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس پر غور کریں گے۔
دیگر حل طلب مسائل میں علاقائی تنازعات اور زاپوریزہیا جوہری بجلی گھر کا معاملہ بھی شامل ہے، جو اس وقت روس کے کنٹرول میں ہے۔ زیلنسکی نے سلامتی کی ضمانتوں کے حصے کے طور پر یوکرین میں بین الاقوامی فوجی دستوں کی تعیناتی کا مطالبہ بھی کیا، جسے روس پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔
کریملن کے مطالبات
دوسری جانب ماسکو نے اپنے دیرینہ مطالبات کو دہرایا، جن میں یوکرین کا ڈونباس کے بعض علاقوں سے انخلا بھی شامل ہے۔
روسی افواج مشرقی یوکرین میں مزید علاقوں پر قبضہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول تمام علاقے برقرار رکھیں گی۔ پیر کے روز ماسکو نے ڈونیٹسک میں دیبرووا نامی گاؤں پر قبضے کی اطلاع دی۔
فلوریڈا میں ہونے والی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ اور صدر زیلنسکی نے حل طلب مسائل کے لیے ورکنگ گروپس کے قیام کا اعلان کیا۔
زیلنسکی نے کہاکہ امن منصوبے کا قریباً 90 فیصد حصہ طے پا چکا ہے، جبکہ امریکا اور یوکرین کے درمیان سلامتی کی ضمانتیں سو فیصد طے ہو چکی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ یوکرین ریفرنڈم کے بجائے پارلیمنٹ کے ذریعے معاہدے کی منظوری دے سکتا ہے۔
یورپی رہنماؤں کا ردِعمل
ادھر روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر گروشکو نے کہاکہ روس، یوکرین کی تازہ ترین اشتعال انگیزیوں میں برطانیہ کے اثر و رسوخ کو دیکھ رہا ہے، جن کا مقصد امن عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔
ویڈیو لنک کے ذریعے مذاکرات میں شامل یورپی رہنماؤں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کوئی بھی معاہدہ روس کو مزید حوصلہ دے سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ پیوٹن ملاقات: امن معاہدے پر پیشرفت، روس یوکرین جنگ بندی کا اعلان نہ ہوسکا
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیاکہ یوکرین کے اتحادیوں کا ایک اور اجلاس جنوری کے آغاز میں پیرس میں منعقد کیا جائے گا۔
صدر زیلنسکی نے کہاکہ وہ اور یورپی رہنما آئندہ ماہ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے لیے مشترکہ طور پر دوبارہ آ سکتے ہیں۔














