بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کا سابق وزیرِ اعظم بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر اظہارِ افسوس

منگل 30 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے سابق وزیرِ اعظم، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور جمہوریت کی جدوجہد کی نمایاں رہنما بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنے تعزیتی پیغام میں پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ قوم ’ایک عظیم سرپرست‘ سے محروم ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیگم خالدہ ضیاء صرف ایک سیاسی جماعت کی قائد نہیں تھیں بلکہ وہ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم اور ناقابلِ فراموش حصہ تھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت نے ان کی عوامی خدمات اور عوامی مقبولیت کے اعتراف میں انہیں پہلے ہی ’ریاست‘ کی نہایت اہم شخصیت (Very, Very Important Person of the State) قرار دیا تھا۔

چیف ایڈوائزر نے کہا کہ کثیر الجماعتی جمہوریت کی بحالی، سیاسی حقوق کے تحفظ اور آمریت کے خلاف مزاحمت میں بیگم خالدہ ضیاء کا کردار ہمیشہ عزت اور احترام سے یاد رکھا جائے گا۔

ان کے مطابق، ان کی مضبوط قیادت نے کئی نازک ادوار میں قوم کو حوصلہ اور سمت فراہم کی۔ شدید سیاسی اختلافات کے باوجود، انہوں نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء کی طویل عوامی زندگی قومی مفاد اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کی عکاس تھی۔

یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بیگم خالدہ ضیاء انتقال کر گئیں

ان کی سیاسی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یونس نے بتایا کہ بیگم خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں اور انہوں نے سیاست میں قدم اپنے شوہر، سابق صدر اور آرمی چیف ضیاءالرحمان کے 1981 میں قتل کے بعد رکھا۔ ان کی قیادت نے 1980 کی دہائی کے اواخر میں جنرل ایچ ایم ارشاد کی طویل آمریت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء کی حکومت نے خواتین کے لیے مواقع میں نمایاں اضافہ کیا، خصوصاً بچیوں کے لیے مفت تعلیم اور وظائف کے اجراء کو خواتین کی تعلیم میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کبھی پارلیمانی انتخابات میں شکست سے دوچار نہیں ہوئیں اور 1991 سے 2008 تک متعدد حلقوں سے کامیابی حاصل کرتی رہیں۔

چیف ایڈوائزر کے مطابق، بیگم خالدہ ضیاء نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں معاشی اصلاحات اور آزاد معیشت کی بنیاد رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ بعد کے برسوں میں سیاسی محاذ آرائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مبینہ ’فاشسٹ‘ دورِ حکومت میں ایک طاقتور اپوزیشن کی علامت بن کر ابھریں۔

یہ بھی پڑھیے اسحاق ڈار، بیگم خالدہ ضیا اور ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان کیا باتیں ہوئیں؟

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بدعنوانی کے مقدمات میں ان کی قید سیاسی انتقام کا نتیجہ تھی اور ان کے حامی آج بھی ان مقدمات کو من گھڑت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، بیگم خالدہ ضیاء نے طویل عرصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

آخر میں پروفیسر محمد یونس نے مرحومہ کے اہلِ خانہ، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان سے تعزیت کا اظہار کیا اور قوم سے اپیل کی کہ وہ اس ’ناقابلِ تلافی قومی نقصان’ کے موقع پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور بیگم خالدہ ضیاء کے لیے دعا کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

پی ٹی آئی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور آمنے سامنے، وجہ کیا ہے؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟