امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ہتھیار ڈالنے میں ناکامی دکھائی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ ایران کو بھی جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی صورت میں نئے امریکی حملوں کی دھمکی دی ہے۔
یہ بیانات ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے فلوریڈا میں واقع اپنے ریزورٹ میں ملاقات کے بعد دیے۔ ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر پیشرفت، ایران کے جوہری عزائم اور لبنان میں حزب اللہ سے متعلق اسرائیلی خدشات زیرِ بحث آئے۔
مزید پڑھیں: یوکرین جنگ ختم کرانے کی کوششیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا صدر پیوٹن سے پھر ٹیلیفونک رابطہ
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے پر عمل کر رہا ہے اور حماس کو بھی جلد از جلد غیر مسلح ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے بہت کم وقت دیا گیا ہے، اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے لیے سخت نتائج ہوں گے۔
⚡️🇺🇸🇻🇪BREAKING:
U.S President #Trump while meeting with #Netanyahu announced that America launched its first LAND STRIKE against #Venezuela at a “drug manufacturing facility”. pic.twitter.com/KLEW7soYaT
— Commentary: Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) December 29, 2025
ایران کے حوالے سے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ ایران امریکی حملوں کے بعد دوبارہ جوہری پروگرام بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے ایسا کیا تو ہم اسے بہت تیزی سے ختم کر دیں گے۔ اس بار ردعمل پہلے سے زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا روسی صدر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ، بات چیت کو تعمیری قرار دے دیا
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے خطے میں اپنے دشمنوں کے خلاف ’بڑی کامیابیاں‘ حاصل کی ہیں اور اگر امریکا مداخلت نہ کرتا تو مشرقِ وسطیٰ میں امن ممکن نہ ہوتا۔
حماس اور ایران کی جانب سے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے سخت بیانات خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کا سبب بن سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ میں جنگ بندی نازک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔











