بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر حکومت نے 3 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔
اس فیصلے کا اعلان منگل کے روز اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں ہونے والے ایڈوائزری کونسل کے خصوصی اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کی۔
اجلاس کا آغاز: ایک منٹ کی خاموشی اور دعا
اجلاس کا آغاز بیگم خالدہ ضیاء کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی سے ہوا۔ بعد ازاں مذہبی امور کے مشیر اے ایف ایم خالد حسین نے مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کروائی اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
3 روزہ سوگ اور ایک دن کی عام تعطیل
ایڈوائزری کونسل نے بدھ سے 3 روزہ سرکاری سوگ منانے اور ایک دن کی عام تعطیل کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بیگم خالدہ ضیاء انتقال کر گئیں
اجلاس میں بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر تعزیتی قرارداد بھی منظور کی گئی، جسے ماحولیات، جنگلات، موسمیاتی تبدیلی اور اطلاعات کی مشیر رضوانہ حسن نے پڑھ کر سنایا۔
قومی پرچم سرنگوں، خصوصی دعائیں
سوگ کے دوران ملک بھر میں تمام سرکاری، نیم سرکاری اور خودمختار اداروں، تعلیمی اداروں، نجی دفاتر اور بیرونِ ملک بنگلہ دیشی سفارت خانوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھا جائے گا۔
بدھ کے روز ملک بھر کی مساجد میں خصوصی دعائیں کی جائیں گی، جبکہ دیگر مذاہب کے عبادت خانوں میں بھی تعزیتی اور یادگاری تقاریب منعقد کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے سابق بنگہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیا 6 سال بعد منظر عام پر آگئیں
بیرونِ ملک بنگلہ دیشی مشنز میں تعزیتی کتابیں (Condolence Books) بھی کھولی جائیں گی تاکہ لوگ سابق وزیرِ اعظم کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔
جنازے اور تدفین کا اعلان
بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر خصوصی دعوت پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ انہوں نے بیگم خالدہ ضیاء کے اہلِ خانہ اور جماعت کی جانب سے عبوری حکومت کا شکریہ ادا کیا اور سیکیورٹی سمیت دیگر انتظامات پر اظہارِ اطمینان کیا۔
یہ بھی پڑھیے خالدہ ضیاء، بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم نے زندگی کیسے گزاری؟
انہوں نے بتایا کہ بیگم خالدہ ضیاء کی نمازِ جنازہ بدھ کے روز نمازِ ظہر کے بعد قومی پارلیمنٹ کے ساؤتھ پلازہ اور اس سے ملحقہ مانک میا ایونیو میں ادا کی جائے گی۔ بعد ازاں انہیں شہید صدر میجر جنرل ضیاءالرحمان کے پہلو میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
چیف ایڈوائزر کا اظہارِ افسوس
چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت جنازے اور تدفین کے تمام انتظامات میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
ان کا کہنا تھا، ’ہم سب کی دعا تھی کہ وہ مزید کئی برس ہمارے درمیان رہیں۔ ہم ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور ان کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا گو ہیں۔ حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔‘
انہوں نے 21 نومبر کو یومِ افواج کے موقع پر بیگم خالدہ ضیاء سے اپنی آخری ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ شدید علالت کے باوجود وہ نہایت شفیق اور دوسروں کا خیال رکھنے والی شخصیت تھیں۔
چیف ایڈوائزر نے مزید کہا ’ان کا انتقال قوم کے لیے ایک عظیم نقصان ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔‘














