میسیکو کے جوان پیڈرو فرانکو، جو دنیا کے سب سے موٹے شخص کے طور پر بین الاقوامی شہرت رکھتے تھے، 41 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی تصدیق ان کے معالج ڈاکٹر خوسے انتونیو کستانیدا اور مقامی میڈیا نے کی۔
ڈاکٹر کستانیدا کے مطابق ’حال ہی کے دنوں میں ان کی صحت کو گردوں کے انفیکشن نے متاثر کیا، جو بعض پیچیدگیوں کے ساتھ بڑھ گیا، اور اسی دوران اسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔‘
فرانکو نے دنیا بھر کی توجہ 2017 میں حاصل کی، جب گنیز ورلڈ ریکارڈز نے انہیں دنیا کے سب سے موٹے شخص کے طور پر تسلیم کیا۔ اس وقت ان کی عمر 32 سال تھی اور وزن تقریباً 1,312 پاؤنڈ (تقریباً 595 کلوگرام) تھا، جس کی وجہ سے وہ چل نہیں سکتے تھے اور زیادہ تر وقت بستر پر گزارا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے وزن میں کمی کی دوائیں کیسے کام کرتی ہیں؟
اسی سال، فرانکو نے ڈاکٹر کستانیدا کی نگرانی میں جامع طبی علاج شروع کیا۔ اس میں میڈیٹرینین طرز کی خوراک شامل تھی، جو پھل اور سبزیوں پر مبنی تھی، اور 2 بیریاٹرک سرجریز: گیسٹرک سلیو اور گیسٹرک بائی پاس، بھی کی گئیں۔
علاج کے نتیجے میں، فرانکو نے اپنا ابتدائی وزن تقریباً 49 فیصد کم کر لیا، جو انتہائی سنگین طبی حالات کے پیش نظر ایک اہم کامیابی تھی۔
COVID-19 وبا کے دوران 2020 میں، فرانکو نے کورونا وائرس کا علاج بھی کامیابی سے کیا، باوجود اس کے کہ شدید موٹاپے کی وجہ سے وہ ہائی رسک میں تھے۔ ڈاکٹر کستانیدا کے مطابق، یہ واقعہ فرانکو کی بیریاٹرک علاج کے بعد حاصل ہونے والی صحت کی بہتری اور مستقل صحت کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹے افراد کیلئے خوشخبری، کھانے پینے کی پابندی ختم
ڈاکٹر کستانیدا نے فرانکو کے کیس کو ’پیچیدہ اور چیلنجنگ‘ قرار دیا، اور کہا کہ اس نے موٹاپے کو ایک دائمی بیماری کے طور پر سمجھنے اور اسے سائنسی بنیادوں پر علاج کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا، جس کے ساتھ ہمدردی اور سماجی تاثر سے بالاتر رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر نے مزید کہا کہ جوان پیڈرو کا کیس موٹاپے کے حوالے سے شعور بڑھانے میں مددگار ثابت ہوا اور بہت سے لوگوں کو اپنی صحت کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی ترغیب دی۔













