پنجاب حکومت نے زمین کے لین دین کے نظام میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنانے کے لیے اہم تبدیلیاں متعارف کراتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت صوبے بھر میں زبانی لین دین کی بنیاد پر زمین کی فرد نکلوانے یا انتقال درج کرانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور ہائیکورٹ: پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا، چیف جسٹس کے سخت ریمارکس
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق اب پنجاب میں زمین کا انتقال صرف اور صرف رجسٹرڈ دستاویزات کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگا، جبکہ سادہ تحریر یا غیر رجسٹرڈ معاہدوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔ اس فیصلے کا اطلاق خرید و فروخت، رہن، تبادلہ اور ہبہ جیسے تمام لین دین پر ہوگا، جن کے لیے رجسٹرڈ کاغذات لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ معاہدے یا سٹامپ پیپر پر انتقال درج نہیں کیا جا سکے گا۔ تاہم، وراثتی انتقال کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، اور وراثت کے کیسز میں سابقہ طریقہ کار کے تحت انتقال ممکن ہوگا۔
اس اقدام کا مقصد زمینوں کے ریکارڈ میں جعلسازی، تنازعات اور غیر قانونی قبضوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور لینڈ ریکارڈ کا نظام مزید مضبوط بنایا جا سکے۔














