سال 2025 پاکستان کے لیے محض ایک کیلنڈر سال نہیں تھا بلکہ یہ ریاست، عدلیہ، معیشت اور قانون کے باہمی تعلق کا ایک کڑا امتحان ثابت ہوا۔ چاہے معاملہ عدالتی نظام کا ہو یا ایوی ایشن اور سیاحت جیسے اسٹریٹجک شعبوں کا، ہر سطح پر ایک ہی سوال گونجتا رہا: کیا فیصلے قانون کے مطابق ہو رہے ہیں، یا قانون فیصلوں کے تابع ہو چکا ہے؟
ایک سینیئر وکیل کی حیثیت سے اگر سنہ 2025 کو دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ سال پاکستان کے عدالتی نظام کے لیے غیر معمولی دباؤ کا حامل رہا۔ عدالتیں بظاہر متحرک رہیں اور فیصلے بھی آئے مگر پس منظر میں اضطراب بڑھتا رہا۔
آئینی تنازعات، سینیئر ججوں کے خطوط، ججوں کے استعفے، ایک سینیئر جج کی عدالتی برطرفی اور آئینی ترامیم پر شدید اختلاف نے انصاف کے پورے عمل کو متنازع بنا دیا۔ حکومت، بار اور بینچ کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ عوامی اعتماد کو متاثر کرتا رہا اور یہی اعتماد عدلیہ کی اصل طاقت ہوتا ہے۔
اس کے باوجود وکلا برادری نے عدالتی آزادی، آئین کی بالادستی اور انتظامیہ کی مداخلت کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھا۔ نجکاری، ایوی ایشن اور ریگولیٹری معاملات میں بڑھتی ہوئی قانونی چارہ جوئی اس بات کا واضح ثبوت بنی کہ معاشی دباؤ اور قانون کی حکمرانی کے درمیان تصادم شدت اختیار کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری: آگے کیا ہوگا؟
عالمی سطح پر سال 2025 ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے بحالی کا سال رہا۔ وبا کے بعد فضائی سفر تقریباً سابقہ سطح پر واپس آیا، مگر اس بحالی کے ساتھ قانونی نگرانی کہیں زیادہ سخت ہو گئی۔ اب ایئرلائنز کے لیے محض منافع کافی نہیں رہا بلکہ انہیں آئی سی اے او کے حفاظتی اور تکنیکی معیارات، ماحولیاتی قوانین، مسافروں کے حقوق، ڈیٹا پروٹیکشن اور سائبر سیکیورٹی جیسے ضوابط پر مکمل عمل درآمد بھی یقینی بنانا پڑا۔ سال 2025 نے عالمی ایوی ایشن کو واضح پیغام دیا کہ قانونی مطابقت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
سیاحت کے شعبے میں بھی دنیا بھر میں بحالی دیکھنے میں آئی، مگر اس بار کامیابی ان ممالک کو ملی جہاں ویزا نرمی اور بارڈر سیکیورٹی میں توازن رکھا گیا، سیاحوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل کیا گیا اور ماحولیاتی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کو سنجیدگی سے لیا گیا۔ سیاحت اب صرف تفریح نہیں رہی بلکہ یہ ایک منظم اور قانون سے جڑا ہوا شعبہ بن چکی ہے۔
پاکستان کے لیے سال 2025 ایوی ایشن کے میدان میں خاصا حساس قانونی سال ثابت ہوا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ریگولیٹر اور آپریٹر کے دوہرے کردار پر سوالات اٹھتے رہے، آئی سی اے او اصلاحات پر عمل درآمد سست رہا، جبکہ لائسنسنگ، سلاٹ الاٹمنٹ اور ایئرپورٹ آؤٹ سورسنگ کے معاملات عدالتوں میں زیرِ بحث رہے۔ انہی حالات میں پی آئی اے کی نجکاری سنہ 2025 کا سب سے بڑا اور متنازع فیصلہ بن کر سامنے آئی۔
معاشی نقطۂ نظر سے یہ فیصلہ قابل فہم تھا مگر قانونی اعتبار سے اس نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ شفافیت، نجکاری قوانین، ملازمین کے حقوق، پینشن کی ذمہ داریاں، اثاثوں کی درست مالیت، مسابقتی قانون اور بین الاقوامی معاہدات جیسے نکات پر واضح قانونی تحفظ نظر نہیں آیا۔ اس تجربے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ قانونی فریم ورک کے بغیر نجکاری مستقبل کے بحرانوں کو جنم دیتی ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان کو کم از کم ایک سپورٹس یونیورسٹی کی سخت ضرورت کیوں ہے؟
سیاحت کے شعبے میں پاکستان نے سنہ 2025 میں ترقی تو دکھائی، مگر قانونی خلا واضح رہا۔ جامع قومی سیاحتی قانون کا فقدان، ٹور آپریٹرز اور ایڈونچر ٹورزم کی کمزور ریگولیشن، 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی قوانین میں عدم ہم آہنگی اور ماحولیاتی و ثقافتی تحفظ پر ناقص عمل درآمد وہ مسائل رہے جنہوں نے اس شعبے کی بنیاد کو کمزور رکھا۔ یوں سیاحت بڑھی ضرور مگر مضبوط قانونی ستون کے بغیر۔
اب نگاہیں 2026 پر ہیں جو قانون کے حوالے سے فیصلہ کن سال ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی ایوی ایشن میں ماحولیاتی قوانین کا سخت نفاذ، مسافروں کے حقوق پر قانونی چارہ جوئی، ریگولیٹری ہم آہنگی اور حفاظتی آڈٹس مزید سخت ہوں گے۔ جو ایئرلائن قانونی محاذ پر ناکام ہوگی وہ تجارتی میدان میں بھی پیچھے رہ جائے گی۔
اسی طرح عالمی سیاحت میں گرین اور پائیدار قوانین، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جواب دہی، مسافروں کے ڈیٹا کا تحفظ اور موسمیاتی اثرات سے جڑی پابندیاں مرکزی حیثیت اختیار کریں گی۔ قانونی استحکام ہی مسابقتی برتری بنے گا۔
پاکستان میں سال 2026 یہ طے کرے گا کہ پی آئی اے کی نئی انتظامیہ بین الاقوامی ایوی ایشن قانون پر پورا اترتی ہے یا نہیں، سول ایوی ایشن اتھارٹی واقعی ایک آزاد ریگولیٹر بن پاتی ہے یا نہیں اور ایئرپورٹ آؤٹ سورسنگ عدالتی جانچ میں برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ اسی طرح سیاحت کے شعبے میں فوری طور پر جامع قومی ریگولیٹری فریم ورک، مؤثر لائسنسنگ، حفاظتی قوانین، وفاقی و صوبائی ہم آہنگی اور غیر ملکی سیاحوں و سرمایہ کاروں کے لیے قانونی تحفظ ناگزیر ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں: دنیا اور پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری
سال 2025 یہ سبق دے گیا کہ عدلیہ، ایوی ایشن اور سیاحت سمیت کوئی بھی شعبہ قانون سے بالاتر نہیں۔ سال 2026 ان نظاموں اور ریاستوں کو آگے لے جائے گا جو معاشی وژن کو آئینی اور قانونی نظم و ضبط سے جوڑ سکیں گے۔ پاکستان میں ترقی کا راستہ بھی ایک ہی ہے: شفاف قوانین، آزاد ادارے اور مضبوط آئینی حکمرانی کیونکہ قانون کے بغیر ترقی عارضی ہوتی ہے اور قانون کے ساتھ ترقی پائیدار۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












