ہر سال کے اختتام پر دنیا بھر کے لوگ نیا سال مناتے ہیں، لیکن بین الاقوامی تاریخ لائن (International Date Line) کی وجہ سے زمین پر سبھی آباد مقامات ایک ہی دن میں نئے سال میں داخل نہیں ہوتے۔ اس دلچسپ نظام کے تحت، کچھ جزائر اور ممالک نئے سال کا جشن سب سے پہلے مناتے ہیں، جبکہ دیگر سب سے آخر میں۔
یہ بھی پڑھیں:دعا ہے کہ نیا سال تحمل، اتحاد اور امید کی تجدید کا سال ہو، صدرِ مملکت کا سالِ نو کے موقع پر پیغام
2026 کے آغاز پر کرِٹیماتی جزیرہ (Kiribati) سب سے پہلے نیا سال منانے والا مقام تھا، جبکہ امریکی ساموا اور نیوے جزائر سب سے آخر میں نئے سال کا استقبال کرنے والے مقامات میں شامل ہیں۔
Welcoming in the New Year, Dubai style! 🥳🎇
The world's tallest tower. The world's biggest celebration. pic.twitter.com/rZhsiSJ6HN
— Emirates (@emirates) December 31, 2025
کرِٹیماتی جزیرہ، جو کراباتی کے 33 جزائر میں سے ایک ہے، نیا سال 2026 میں سب سے پہلے داخل ہوا۔ یہ جزیرہ تقریباً ہاورائی کے جنوب میں واقع ہے، لیکن 1995 میں کراباتی کے صدر نے بین الاقوامی تاریخ لائن کو اپنی سرزمین کے گرد منتقل کر دیا۔ اس سے پہلے جزائر کے مختلف حصے مختلف دن مناتے تھے، جس سے ملک میں وقت کی بے ربطی پیدا ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:سوئٹزرلینڈ کے کرانس مونٹانا میں نیو ایئر نائٹ پر دھماکا، متعدد ہلاک
صدر نے اس اقدام کا مقصد ملک کو متحد کرنا بتایا، لیکن نتیجتاً یہ فیصلہ تاریخی طور پر اہم ثابت ہوا کیونکہ کراباتی دنیا کے پہلے نیا سال منانے والے ملکوں میں شامل ہو گیا اور 2000 کے نئے صدی کے آغاز میں بھی سب سے آگے رہا۔
New Year 2026 celebration 🎉 Sydney, Australia.🇦🇺 pic.twitter.com/qhcYNYPQhu
— GLOBAL PULSE 360 (@DataIsKnowldge) December 31, 2025
کرِٹیماتی کے بعد ساموا اور ٹونگا نئے سال کا استقبال کرنے والے پہلے ممالک میں شامل ہیں۔ نیوزی لینڈ کا شہر آکلینڈ بھی بڑے شہروں میں سب سے پہلے نیا سال منانے کے لیے مشہور ہے۔
دوسری جانب دنیا کے آخری نئے سال منانے والے ممالک میں امریکی ساموا اور نیوے جزائر شامل ہیں، جو کراباتی کے جنوب مغرب میں واقع ہیں۔ جب یہ ممالک 2026 میں داخل ہوتے ہیں، تب تک دنیا کے بیشتر ممالک پہلے ہی نئے سال میں قدم رکھ چکے ہوتے ہیں۔ امریکی ساموا میں نیا سال یکم جنوری 2026 کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے داخل ہوا۔

یہ دلچسپ صورتحال بین الاقوامی تاریخ لائن کے قوانین اور ممالک کی اپنی مرضی کے مطابق وقت کے انتخاب کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔ اس کی بدولت دنیا میں نئے سال کے جشن کا سلسلہ تقریباً 25 گھنٹے تک جاری رہتا ہے، جو عالمی وقت اور ثقافتی تنوع کی ایک مثال بھی ہے۔











