فرانس نے آسٹریلیا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی اور ہائی اسکولز میں موبائل فونز پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو ستمبر 2026 سے نافذ ہوگا۔ یہ اقدام بچوں پر آن لائن مواد کے منفی اثرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے پیش نظر لیا گیا ہے۔
اس قانون کا مقصد بچوں کی اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے کی عادت کو کم کرنا اور انہیں غیر مناسب مواد، سائبر ہراسانی اور نیند کے مسائل جیسے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بار بار کہا ہے کہ سوشل میڈیا نوجوانوں میں تشدد اور دیگر مسائل میں حصہ ڈال رہا ہے۔
مزید پڑھیں: خاندانی نظام تباہ ہورہا ہے، سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جائے، درخواست دائر
فرانسیسی میڈیا آؤٹ لیٹ Le Monde کے مطابق، سرکاری مسودے میں متعدد مطالعات کا حوالہ دیا گیا ہے جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ نوجوانوں کی زیادہ اسکرین ٹائم کے متعدد خطرات ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جن بچوں کو بلا روک ٹوک آن لائن رسائی حاصل ہوتی ہے وہ غیر مناسب مواد اور سائبر بلیئنگ کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
🇫🇷 France will make a fresh attempt to protect children from excessive screen time, proposing a ban on social media access for children under 15 by next September, according to a draft law seen by AFP.
➡️ https://t.co/3qMg95p3mt pic.twitter.com/nXuWtqK7Wq— AFP News Agency (@AFP) December 31, 2025
یہ اقدام آسٹریلیا کی دنیا کی پہلی قانون سازی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ آسٹریلیا میں یہ پابندی فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب، سنیپ چیٹ، ریڈٹ اور ایکس جیسی بڑی پلیٹ فارمز پر لاگو ہے۔
فرانس کے منصوبے میں 13 سے 16 سال کے بچوں کے لیے والدین کی اجازت لازمی قرار دینے کی شق بھی شامل ہے۔ فرانسیسی سینیٹ نے اس اقدام کی حمایت کر دی ہے اور صدر میکرون کا ہدف ہے کہ یہ تجویز جنوری 2026 میں پارلیمنٹ میں پیش کی جائے اور ستمبر میں نافذ کی جائے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا نابالغ بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا
اس کے علاوہ، دیگر ممالک بھی اسی سمت میں اقدامات کر رہے ہیں: ملائشیا میں 1 جنوری 2025 سے 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے عمر کی تصدیق لازمی ہو گی اور انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکا جائے گا۔
فرانسیسی حکومت کی یہ تجویز اس عالمی رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں بچوں کی حفاظت اور ان کی صحت و بہبود کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی کو منظم کیا جا رہا ہے۔












