وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گزشتہ ہفتے لاہور کے 3 روزہ سیاسی دورے کے بعد واپسی پر اسلام آباد میں ڈیرے ڈال دیے اور پیر کے روز اہم کابینہ اجلاس کے لیے بھی پشاور نہیں آئے بلکہ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی سربراہی کی۔
سہیل آفریدی گزشتہ جمعے کو 3 روزہ دورے پر لاہور گئے تھے اور واپسی پر اسلام آباد آ گئے۔ ان کے قریبی حلقے بتاتے ہیں کہ سہیل آفریدی نے سفر کے بعد اسلام آباد میں آرام کو ترجیح دی اور خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں قیام کیا۔
یہ بھی پڑھیے: سہیل آفریدی لاہور کیا کرنے گئے تھے؟
ان کے مطابق یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ہوں، اس سے قبل بھی وہ پختونخوا ہاؤس میں قیام کرتے رہے ہیں اور اجلاسوں کی سربراہی ویڈیو لنک کے ذریعے کرتے رہے ہیں۔
سہیل آفریدی پر اسلام آباد میں زیادہ قیام پر تنقید
پی ٹی آئی کے صوبائی قائدین کو بھی وزیراعلیٰ کے اسلام آباد میں زیادہ وقت گزارنے پر اعتراض ہے، تاہم وہ کھل کر سامنے نہیں آ رہے۔ کچھ پارٹی رہنماؤں نے بتایا کہ سہیل آفریدی بھی علی امین گنڈاپور کے نقشِ قدم پر چل پڑے ہیں اور پشاور کے بجائے اسلام آباد کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی 9 جنوری کو کراچی جائیں گے
ان کے مطابق علی امین اپنے دور میں زیادہ تر وقت اسلام آباد میں ہوتے تھے اور جمعے کے روز اراکین کی ملاقات کے دن بھی پشاور نہیں آتے تھے۔ ‘سہیل آفریدی شروع کے دنوں میں پشاور میں ہوتے تھے، وقت دیتے تھے، لیکن اب پشاور کے بجائے اسلام آباد میں زیادہ قیام کرتے ہیں۔’
انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے اندر بھی لوگوں کو اعتراضات ہیں لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے۔
‘وزیراعلیٰ کو صوبے کی فکر نہیں’
سماجی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے بھی اسلام آباد میں ترجیحی قیام پر سہیل آفریدی کو تنقید کا سامنا ہے۔ پشاور کے سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی نے وزیراعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وزیراعلیٰ ہیں یا وائسرائے جو کابینہ اجلاس کے لیے بھی پشاور نہیں آتے اور ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرتے ہیں۔
صحافی عارف نے بتایا کہ سہیل آفریدی پہلے وزیراعلیٰ نہیں ہیں جو اسلام آباد میں بیٹھ کر حکومت چلا رہے ہیں بلکہ اس سے پہلے پرویز خٹک، محمود خان اور علی امین گنڈاپور بھی ایسا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے اسلام آباد میں بھی اہم اجلاس ہوا کرتے تھے جن کے لیے کابینہ ممبران اور سرکاری حکام خصوصی طور پر اسلام آباد جاتے تھے جو خزانے پر بوجھ تھا۔
عارف کے مطابق سہیل آفریدی کچھ عرصے سے مسلسل اسلام آباد کو ترجیح دے رہے ہیں اور کئی بار اہم اجلاسوں کے لیے بھی پشاور نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر حکومتی معمولات چلانا سرکاری امور میں عدم دلچسپی کی نشانی ہے۔
‘حکومتی معاملات افسران کے حوالے، سہیل آفریدی سیاسی معمولات میں مصروف’
پاکستان تحریک انصاف کے ایک اہم رہنما نے بتایا کہ سہیل آفریدی حکومتی امور کے مقابلے میں سیاسی و پارٹی معاملات میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ حکومتی امور کے لیے مناسب وقت نہیں دے پا رہے۔ ان کے مطابق پارٹی میں ترقیاتی کام نہ ہونے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
‘ورکرز عمران خان کی رہائی کے لیے اقدامات چاہتے ہیں، وہ نظر نہیں آ رہے، جبکہ ترقیاتی کام بھی نہیں ہو رہے۔’
صحافی عارف کا بھی یہی خیال ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ سیاسی معمولات میں مکمل طور پر مصروف ہیں۔ لاہور کا سیاسی دورہ کیا، 3 دن صوبے سے باہر رہے، جبکہ واپسی پر اسلام آباد گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے بعد اب وزیراعلیٰ کا اگلا پلان کراچی کا دورہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جیل میں قید پی ٹی آئی کارکنوں سے خصوصی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟
‘وزیراعلیٰ حکومت چلانے کے بجائے اب اپنی پارٹی کی سیاسی مہم میں مصروف ہیں، جس کا نقصان صوبائی حکومت کو ہو رہا ہے۔’
انہوں نے کہا کہ حکومتی امور افسران کے حوالے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ احتجاج کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ اسلام آباد کیوں جاتے ہیں؟
وزیراعلیٰ کے اسلام آباد میں ترجیحی قیام اور کابینہ سمیت دیگر اہم اجلاسوں میں اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کے حوالے سے موقف جاننے کے لیے ترجمانِ صوبائی حکومت سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کوئی موقف نہیں دیا۔
تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس میں تعینات ایک افسر نے بتایا کہ سہیل آفریدی لاہور سے واپسی پر آرام کے لیے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد گئے تھے اور اگلی صبح وہیں سے ویڈیو لنک کے ذریعے کابینہ اجلاس کی صدارت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ علی امین کے مقابلے میں سہیل آفریدی اسلام آباد میں بہت کم قیام کرتے ہیں جبکہ علی امین زیادہ وقت اسلام آباد میں گزارتے تھے۔
اسلام آباد میں وزیراعلیٰ کی مصروفیات کے بارے میں سوال پر افسر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ وہاں اکثر اہم ملاقاتیں اور میٹنگز کرتے ہیں اور پختونخوا ہاؤس میں اپنی فیملی کے ساتھ بھی قیام کرتے ہیں۔













