نئے سال کے پہلے دن ترکی کے شہر استنبول میں ہزاروں افراد نے غزہ کے حق میں مظاہرہ کرتے ہوئے مارچ کیا۔
اسی نوعیت کا ایک مظاہرہ گزشتہ برس بھی منعقد کیا گیا تھا، جس کا اہتمام ترک صدر رجب طیب اردوان کے صاحبزادے بلال اردوان نے کیا تھا۔

مظاہرین علی الصبح آیا صوفیہ گرینڈ مسجد، سلطان احمد فاتح، سلیمانیہ اور امینونو نئی مسجد سمیت استنبول کی اہم مساجد میں جمع ہوئے اور غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
NEW: Over 500,000 people marched through Istanbul in a sweeping show of solidarity with Palestinians and condemning Israel’s genocide in Gaza.
Protesters, many waving Palestinian and Turkish flags, converged on the city’s historic Galata Bridge on Thursday despite freezing… pic.twitter.com/6ZSwB1EjnK
— DOAM (@doamuslims) January 1, 2026
مظاہرین نے اظہارِ یکجہتی کے طور پر مساجد کے صحنوں میں ترکی اور فلسطین کے پرچم لہرائے۔

سخت سردی کے باوجود بڑی تعداد میں مظاہرین اس مارچ میں شریک ہوئے، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، خصوصاً سلطان احمد اسکوائر کے اطراف، جہاں شرکاء کے لیے گرم مشروبات کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔
نمازِ فجر کے بعد مظاہرین نے وزرا، اعلیٰ سرکاری حکام اور ریاستی شخصیات کے ہمراہ فلسطین کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے گلاٹا پل کی جانب مارچ کیا۔













