وزیر اعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر 98 فیصد عملدرآمد ہو چکا ہے، ریاست کسی افراتفری کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاست کے 2 ڈویژنز کے اندر عوامی اجتماعات کیے گئے اور لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: ایکشن کمیٹی کی تحریک کا صرف تاجروں کو فائدہ، عوام کو ڈویژنز کے نام پر تقسیم کردیا
ان کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر بتدریج عملدرآمد ہو رہا ہے۔
ہمارا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں، ہم عوامی مسائل حل کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ہمیں ریاست کے اندر اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ یہ ریاست اور اس کے لوگ ہمارے اپنے ہیں، اور ریاست کسی بھی قسم کی تفریق کی متحمل نہیں ہو سکتی وزیراعظم آزاد کشمیر، فیصل ممتاز راٹھور pic.twitter.com/OrhL5Sw8J7
— WE News (@WENewsPk) January 2, 2026
انہوں نے کہا کہ یہ حکومت 17 اکتوبر کو بنی اور قریباً آدھے سے زیادہ مطالبات پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے، جس کے باعث لوگ سیاسی نظام پر اعتماد کر رہے ہیں۔
’پچھلی حکومت کے دوران عوام میں دوری آ گئی تھی، تاہم پوری ریاست کی عوام نے ہمارا بھرپور استقبال کیا۔‘
وزیر اعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ ہمارا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں، ہم صرف اپنا کام کرنے آئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بڑے سے بڑے مسئلے کو مل بیٹھ کر حل کیا اور جو مسائل عوامی نوعیت کے تھے، وہ حل کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی آج جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر رہی ہے، پہلے کیوں نہیں کیا؟ چوہدری انوار الحق
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے اندر کسی بھی قسم کی افراتفری برداشت نہیں کی جائے گی اور وہی بات کی جائے گی جو حقائق پر مبنی ہو۔
فیصل ممتاز راٹھور نے بتایا کہ پورے معاہدے کے نکات پر تقریباً 98 فیصد عملدرآمد ہو چکا ہے اور جملہ مطالبات پر کام کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھا جائے گا اور خطے کے اندر بہتری کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائےگا۔
مزید پڑھیں:آزاد کشمیر: وفاق اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان موبائل فون سروس کی بحالی سمیت 90 فیصد معاملات طے
’وزیر اعظم ہاؤس کے دروازے کھول دیے گئے ہیں، ریاست کو آگے لے کر جانا ہمارا مقصد ہے اور ہمارے کسی وزیر نے آج تک کوئی ایسا تلخ جملہ نہیں کہا جس سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو۔‘
وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ ریاست کے اندر سیاحت کی صنعت کو فروغ دیتے ہوئے ان نکات پر توجہ مرکوز کیا جائے گا جو ریاست کی ترقی کا باعث بنیں۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت پر معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کی دھمکی دی ہے۔
اس سے قبل جموں و کشمیرجوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کے باعث ریاست میں نظام زندگی مفلوج ہو گیا تھا، اور پھر ایک معاہدے کی بنیاد پر ہڑتال ختم کی گئی تھی۔

















