اگر آپ کیکڑے نہ بھی کھاتے ہوں تب بھی ان ’ ایکو سسٹم انجینئرز‘ کو کمتر نہ سمجھیں کیوں کہ یہ پلاسٹک کھاکر ہمارے سمندر صاف کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈس ڈیلٹا: صفحہ ہستی سے مٹتے گاؤں، سمندر کی نذر ہوتی ایک بھرپور ثقافت، وجہ کیا ہے؟
جرنل گلوبل چینج بایالوجی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فِڈلر کیکڑے، جن کا سائز پوسٹ اِٹ نوٹ کی چوڑائی سے بھی کم ہوتا ہے، کولمبیا کے شمالی ساحلی علاقوں میں پلاسٹک کی آلودگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ ننھے کیکڑے ایکو سسٹم انجینئرز کے طور پر کام کرتے ہوئے مائیکرو پلاسٹکس کو کھا کر اور جسمانی طور پر توڑ کر ختم کر رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ آرتھروپوڈز نہ صرف آلودہ ساحلی ماحول میں زندہ ہیں بلکہ مٹی میں موجود باریک پلاسٹک ذرات کی بایو ڈی گریڈیشن میں بھی سرگرم ہیں۔
مزید پڑھیے: دنیا کے 5 مہنگے ترین کھانے جنہیں عام آدمی صرف خواب ہی میں کھا سکتا ہے
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ کیکڑے چند ہی دنوں میں پلاسٹک کو توڑ دیتے ہیں جو سورج کی روشنی اور سمندری لہروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز عمل ہے۔
فِڈلر کیکڑوں کی مائیکرو پلاسٹکس سے مطابقت
سائنس دان پہلے ہی لیبارٹری تجربات میں یہ دریافت کر چکے تھے کہ فِڈلر کیکڑے پلاسٹک کو نگل لیتے ہیں تاہم یہ پہلی تحقیق ہے جس میں قدرتی ماحول میں یہ جانچا گیا کہ آیا یہ کیکڑے پلاسٹک سے بچتے ہیں یا اس کے ساتھ مطابقت اختیار کر لیتے ہیں۔
اس حوالے سے تحقیق کے سربراہ پروفیسر خوسے ایم ریاسکوس نے کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ مائیکرو اسفیئرز کیکڑے کے اہم اعضا میں کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور آیا ان کے ساتھ تعامل کے نتیجے میں یہ ذرات مزید چھوٹے ٹکڑوں میں ٹوٹ جاتے ہیں یا نہیں۔
مزید پڑھیں: سائبیریائی سردی: چٹپٹی فرائی مچھلی کی چاہ میں کوئٹہ کے شہریوں کا ریسٹورنٹس پر دھاوا
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ان کیکڑوں کے جسم میں مائیکرو پلاسٹکس کی مقدار اردگرد کی مٹی کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ پائی گئی۔
مائیکرو پلاسٹکس کے ممکنہ اثرات
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فِڈلر کیکڑوں کی یہ صلاحیت ماحول کے لیے فائدہ مند ہے تاہم اس کے نتیجے میں خطرناک نینو پلاسٹکس ان کے جسم میں خارج ہو سکتے ہیں جو آگے چل کر خوراک کی زنجیر میں شامل ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں۔












