نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم خالدہ ضیا کے انتقال پر اظہارِ تعزیت

جمعہ 2 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے دفتر سے جاری تعزیتی پیغام میں اسحاق ڈار نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے، اور اپنی طرف سے، وہ حکومتِ بنگلہ دیش، وہاں کے عوام، مرحومہ کے اہلِ خانہ اور ان کے چاہنے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بیگم خالدہ ضیاء انتقال کر گئیں

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بیگم خالدہ ضیاء نے اپنی زندگی عوامی خدمت اور اپنے ملک کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ مشکل حالات میں ان کی جرات مندانہ قیادت اور ثابت قدمی ایک دیرپا ورثہ ہے، جسے ہمیشہ احترام سے یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام بنگلہ دیشی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں مرحومہ کی خدمات اور یادوں سے حوصلہ اور تسلی عطا فرمائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور یونیورسٹی میں طلبا کی خودکشیوں کا المناک سلسلہ، آخر معاملہ ہے کیا؟

سونے کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

گلیات مری واٹر پائپ لائن معاہدہ

اسحاق ڈار کا ایران کے ساتھ ترجیحی شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھنے کا اعلان

پاک فضائیہ اور بنگلہ دیش ایئر فورس کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ویڈیو

مذاکرات صرف میڈیا کی زینت ہیں، کوئی حقیقی پیشرفت نہیں، وزیردفاع خواجہ آصف

ٹی20 سیریز: پاکستان کرکٹ ٹیم سری لنکا پہنچ گئی، شاندار روایتی استقبال

مثالی گاؤں پراجیکٹ: پنجاب کے 224 دیہات کو جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کا عمل جاری

کالم / تجزیہ

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟