ن لیگ کے سینیئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کی منظوری نہ ہوتی تو وزیراعظم شہباز شریف مذاکرات کی بات نہ کرتے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ وزیراعظم نے مذاکرات پر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں نہ لیا ہو، محمود خان اچکزئی ہوں یا پی ٹی آئی کی دوسری قیادت، وہ ہمارے ساتھ بات کرتے ہوئے ڈائیلاگ کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں لیکن جب تک عمران خان کی پالیسی ڈائیلاگ کی نہ ہو بات نہیں بن سکتی۔
یہ بھی پڑھیے: اس وقت مذاکرات کا کوئی ماحول نظر نہیں آ رہا، سلمان اکرم راجا
رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے مذاکرات کا اختیار کسی کو نہیں دیا ہے، علیمہ خان درست کہتی ہیں کہ مذاکرات کی بات کرنے والا ہم میں سے نہیں، مذاکرات کی راہ میں عمران خان ہی ہمیشہ رکاؤٹ رہے ہیں، اس کی ذمہ داری انہیں پر ہیں، پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے۔
عمران خان سے ملاقات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کی ان سے جیل میں ملاقات ہوئی اور اس کے بعد انہوں نے جو گفتگو کی اور ٹویٹ کیا اس سے کوئی فائدہ ہوا یا معاملات مزید خراب ہوگئے؟
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کو وزیراعظم کے ساتھ بیٹھنے کا کہا لیکن ان کا کہنا ہے کہ ہم عمران خان سے اجازت لیے بغیر وزیراعظم کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے، انہیں اپنے ‘گالم گلوچ بریگیڈ’ کا ڈر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اپوزیشن مذاکرات کے لیے رضامندی ظاہر کریگی تو وزیراعظم کا جواب مثبت ہوگا، رانا ثنا اللہ
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کا دفتر ہر وقت ان کے لیے کھلا ہے، کسی بھی وقت جاکر وزیراعظم سے بیٹھنے کا وقت لے سکتے ہیں، 2018 سے 2024 تک دنیا میں پہلی بار ہوا کہ لیڈر آف دی ہاؤس نے لیڈر آف دی اپوزیشن سے ایک بار بھی ملاقات کی اور نہ ہی ہاتھ ملایا۔ ہم نے کسی کو سیاسی طور پر مائنس نہیں کی ہے، وزیراعظم نے آفر کی ہے اپوزیشن کو آکر ان کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔














