بھارت کے وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے بنگلہ دیش کے مختصر دورۂ ڈھاکہ کے دوران سفارتی روایت سے ہٹ کر اپنی سرکاری گاڑی پر بھارتی پرچم استعمال نہیں کیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا، تاہم بھارتی ہائی کمیشن نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسپیکر ایاز صادق اور جے شنکر کی ملاقات، اصل میں کیا ہوا؟
غیر ملکی خبر رساں ادارے اور ڈھاکہ سے شائع ہونے والے نیوز پورٹل کے مطابق بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر 31 دسمبر کو خصوصی بھارتی فضائیہ کے طیارے کے ذریعے ڈھاکہ پہنچے، جہاں وہ صبح ساڑھے 11 بجے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے۔ ایئرپورٹ سے انہیں سخت سیکیورٹی میں بنگلہ دیش ایئر فورس بیس کے راستے قومی اسمبلی کے ساؤتھ پلازا تک لے جایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جے شنکر کی گاڑی کو ریپڈ ایکشن بٹالین اور ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس سمیت ایلیٹ سیکیورٹی دستوں نے گھیرے میں رکھا ہوا تھا۔ ایک سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بھارتی وزیرِ خارجہ کی گاڑی پر بھارتی پرچم نہیں لگایا گیا۔
دورے کے دوران جے شنکر نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان، عبوری حکومت کے قانونی مشیر آصف نذرل اور پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق سے بھی مختصر ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر خود آکر مجھ سے ملے، ایاز صادق نے ملاقات کی تفصیل بتا دی
اس موقع پر انہوں نے سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا کے انتقال پر بھارتی حکومت اور عوام کی جانب سے تعزیت کا پیغام بھی پہنچایا۔
جے شنکر اپنے تمام سرکاری امور مکمل کرنے کے بعد اسی سخت سیکیورٹی انتظامات میں سہ پہر چار بجے سے کچھ پہلے نئی دہلی واپس روانہ ہو گئے۔

دوسری جانب بھارتی ہائی کمیشن، ڈھاکہ نے سرکاری گاڑی پر پرچم نہ لگانے سے متعلق خبروں کو درست قرار دینے سے انکار کیا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
یاد رہے کہ جے شنکر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب بنگلہ دیش میں سیاسی صورتحال حساس سمجھی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات اور سفارتی پروٹوکول سے ہٹ کر اقدامات نے خطے میں توجہ حاصل کی اور مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔












