امریکی فوج نے وینزویلا کے مختلف شہروں پر حملے کیے ہیں، اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے، جبکہ امریکی عدالت نے ان پر فرد جرم بھی عائد کردی ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق دارالحکومت کاراکس میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور شہر کے کئی علاقوں میں طیاروں کی نچلی پروازیں دیکھی گئی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کی گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کاراکس میں کم از کم 7 دھماکے ہوئے جبکہ دیگر متاثرہ ریاستوں میں میرانڈا، آراگوا اور لاگویرا شامل ہیں۔ امریکی حملوں کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا بتایا جا رہا ہے۔
🇺🇸🇻🇪- Scenes from Caracas, the capital of Venezuela.
Smoke plumes are emitting from Fort Tiuna, a major military installation in Caracas. It is reported that 6 smoke columns are seen rising from the area.
– Air raid sirens all throughout Caracas pic.twitter.com/oREe0iKHnZ
— OSINT SPT (@smkycath) January 3, 2026
وینزویلا حکومت نے حملوں کے بعد شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ان کے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا اور وہ امریکی فوجی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں۔
روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں وینزویلا کے دفاعی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا اور صدر مادورو صدارتی محل چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔
علاوہ ازیں کئی جزائر میں امریکی میرینز کے زمینی آپریشن کے آغاز کی غیر مصدقہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
کولمبیا کے صدر نے کہاکہ کاراکس پر میزائل فائر کیے جا رہے ہیں اور انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا کے صدر کو امریکی فوج کے خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے حراست میں لیا۔
واضح رہے کہ امریکی اٹارنی جنرل نے 7 اگست 2025 کو مادورو کی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔
ریپبلکن سینیٹر مائیک لی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا کہ مادورو کو مجرمانہ الزامات کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے گرفتار کیا گیا ہے اور مزید کارروائی کے سلسلے میں امریکہ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
وینزویلا کے صدر اور اہلیہ پر فرد جرم عائد کردی گئی، امریکی اٹارنی جنرل
ادھر امریکا کی اٹارنی جنرل پم بانڈی نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف نیو یارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔
Nicolas Maduro and his wife, Cilia Flores, have been indicted in the Southern District of New York. Nicolas Maduro has been charged with Narco-Terrorism Conspiracy, Cocaine Importation Conspiracy, Possession of Machineguns and Destructive Devices, and Conspiracy to Possess…
— Attorney General Pamela Bondi (@AGPamBondi) January 3, 2026
اٹارنی جنرل کے مطابق صدر مادورو پر الزامات میں نارکو۔ٹیرازم یعنی منشیات سے متعلق دہشت گردی میں سازش، کوکین کی غیر قانونی درآمد میں ملوث ہونے کی سازش، مشین گنز اور دیگر تباہ کن ہتھیار رکھنے کا الزام اور ساتھ ہی امریکا کے خلاف مشین گنز اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کی سازش شامل ہیں۔
اٹارنی جنرل نے مزید کہاکہ مادورو جلد ہی امریکی عدالتوں کا سامنا کریں گے۔ تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ مادورو کی اہلیہ پر کون سے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
بانڈی نے اپنے بیان میں امریکی فوجی اہلکاروں کی بھی تعریف کی اور کہاکہ ہمارے بہادر فوجی ایک انتہائی کامیاب اور شاندار مشن مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے، جس میں مبینہ بین الاقوامی منشیات کے اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔
صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلورس کے ٹھکانے کا علم نہیں، نائب صدر
دوسری جانب وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا ہے کہ حکومت کو اس وقت صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلورس کے ٹھکانے کا علم نہیں۔

نائب صدر کے مطابق حکومت نے دونوں کے لیے فوری طور پر زندگی کا ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وینزویلا کی حکومت نے ملک کے مختلف حصوں میں امریکی حملوں کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ دارالحکومت کاراکاس میں زور دار دھماکوں کی آوازیں اور دھویں کے بلند ہوتے کالم دیکھے گئے، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
وینزویلا کی حکومت نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ملک کے مختلف علاقوں میں حملے کیے ہیں۔
وینزویلا غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کے خلاف مزاحمت کرے گا، وزیر دفاع
وینزویلا کے وزیر دفاع ولادی میر پیڈرینو نے کہا ہے کہ ملک کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کے خلاف سخت مزاحمت کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں وینزویلا میں زمینی کارروائیوں کے امکانات کا عندیہ دیتے رہے ہیں اور نجی طور پر صدر مادورو پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ بھی ڈالتے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایک ایسے علاقے پر کارروائی کا دعویٰ کیا تھا جہاں منشیات سے لدے جہاز موجود تھے، جسے اس مہم کے دوران امریکا کی پہلی معلوم زمینی کارروائی قرار دیا گیا۔
امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جس میں کیریبین میں طیارہ بردار جہاز، جنگی بحری جہاز اور جدید لڑاکا طیاروں کی تعیناتی شامل ہے۔
واشنگٹن نے وینزویلا کے تیل پر پابندیاں، اضافی اقتصادی اقدامات اور مبینہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث جہازوں پر متعدد حملے بھی کیے ہیں۔
وینزویلا حکومت نے منشیات اسمگلنگ کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے، جبکہ کئی ممالک نے امریکی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا ہے۔












