امریکا کا وینزویلا پر حملہ اور صدر مادورو کی گرفتاری، دنیا کیا ردعمل دے رہی ہے؟

ہفتہ 3 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے بعد مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کرکیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: وینزویلا پر امریکا کا حملہ، صدر مادورو اور انکی اہلیہ کو حراست میں لے لیا، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

وینزویلا کی حکومت نے کہا کہ وینزویلا، امریکا کی موجودہ حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین اور عوام کے خلاف کی گئی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو عالمی برادری کے سامنے مسترد کرتا ہے، اس کی مذمت کرتا ہے اور اس کی سختی سے نشاندہی کرتا ہے۔

دیگر ممالک بھی اس حملے پر ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔

روس

روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو امریکا کی جانب سے وینزویلا کے خلاف کیے گئے مسلح جارحیت کے اقدام پر گہری تشویش رکھتا ہے اور اس کی مذمت کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ موجودہ صورتحال میں یہ اہم ہے کہ مزید کشیدگی کو روکا جائے اور مکالمے کے ذریعے صورتحال سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے: وینزویلا کے صدر کو امریکا میں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے تحویل میں لیا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

وزارت نے کہا کہ وینزویلا کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ کسی بھی بیرونی، تباہ کن فوجی مداخلت کے بغیر اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم وینزویلا کے عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی اور اس کی قیادت کی جانب سے قومی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کی پالیسی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

کولمبیا

کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد بیانات میں لکھا کہ پوری دنیا کو خبردار کر رہا ہوں کہ وینزویلا پر حملہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریہ کولمبیا اس یقین کا اعادہ کرتا ہے کہ امن، بین الاقوامی قانون کا احترام، اور انسانی جان اور وقار کا تحفظ ہر قسم کے مسلح تصادم پر غالب ہونا چاہیے۔

ایک علیحدہ پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ کولمبیا ’وینزویلا اور لاطینی امریکا کی خودمختاری کے خلاف جارحیت کو مسترد کرتا ہے‘۔ بعد ازاں پیٹرو نے وینزویلا کی سرحد پر فوجی دستوں کی تعیناتی کا اعلان کیا۔

کیوبا

صدر میگل دیاز کانیل نے سوشل میڈیا پر سخت الفاظ میں مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے واشنگٹن پر وینزویلا کے خلاف ’مجرمانہ حملہ‘ کرنے کا الزام لگایا اور فوری عالمی ردعمل کا مطالبہ کیا۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں دیاز کانیل نے کہا کہ کیوبا کا امن کا خطہ بے دردی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور امریکی کارروائی کو ’ریاستی دہشت گردی‘ قرار دیا جو نہ صرف وینزویلا کے عوام بلکہ وسیع تر طور پر ’ہماری امریکا‘ کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی وینزویلا میں مبینہ منشیات بندرگاہ پر امریکی حملے کی تصدیق

دنیا بھر میں کیوبن سفارت خانوں کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ہوانا نے کہا کہ وہ وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی حملے کی مذمت کرتا ہے۔

ایران

ایک بیان میں ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ ’وینزویلا پر امریکی فوجی حملے اور ملک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی‘ کی سخت مذمت کرتی ہے۔

امریکا

ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے کہا کہ وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا نے وہاں اپنی فوجی کارروائی مکمل کر لی ہے۔

انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ فون کال کے بعد ایکس پر لکھا کہ اب جب مادورو امریکی تحویل میں ہیں، تو وہ وینزویلا میں کسی مزید کارروائی کی توقع نہیں رکھتے۔

لی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں بریفنگ دی ہے کہ مادورو کو امریکا میں مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یورپی یونین

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس نے کہا کہ انہوں نے وینزویلا کی تازہ صورتحال پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور کاراکاس میں یورپی یونین کے سفیر سے بات کی ہے۔

انہوں نے ایکس پر بیان میں کہا کہ یورپی یونین وینزویلا کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وینزویلا میں چین اور روس کی دلچسپی کیا ہے، امریکا کیوں پریشان ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین بارہا کہہ چکی ہے کہ مسٹر مادورو کو قانونی حیثیت حاصل نہیں اور اس نے پُرامن انتقالِ اقتدار کی حمایت کی ہے۔ ہر صورت میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ہم تحمل کی اپیل کرتے ہیں۔ ملک میں موجود یورپی شہریوں کی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔

اسپین

میڈرڈ نے وینزویلا میں کشیدگی کم کرنے، اعتدال اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا مطالبہ کیا۔ ہسپانوی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسپین وینزویلا میں پُرامن حل تلاش کرنے میں ثالثی کی پیشکش بھی کرتا ہے۔

اٹلی

وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ وہ وینزویلا کی صورتحال پر ’قریبی نظر‘ رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر ’وہاں موجود اپنے شہریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے‘ کے لیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اس وقت تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار اطالوی شہری وینزویلا میں مقیم ہیں، جن میں سے اکثر کے پاس دوہری شہریت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرمپ کی وارننگ کے بعد وینزویلا کی قائم مقام صدر نے مفاہمتی لہجہ اپنالیا

احتجاج کو روکنے کا اختیار، عوامی ایکشن کمیٹی ہمارے ساتھ حکومت کا حصہ بن جائے، وزیراعظم آزاد کشمیر کی پیشکش

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، چین اور روس کا وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نسیم شاہ کو مہنگی پڑ گئی، آئی سی سی کا بڑا فیصلہ

برطانوی ولی عہد ولیئم اپنے چھوٹے بھائی پرنس ہیری کو وراثت سے محروم کروانے کے لیے کوشاں

ویڈیو

پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری، نئی تاریخ رقم ہوگئی

پاکستان اور چین کا باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

خیبر پولو فیسٹیول 2026 کا پہلا ایڈیشن، گلگت بلتستان نے چترال کو شکست دیدی

کالم / تجزیہ

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟

جنریشن زی سوال ہی تو نہیں اٹھاتی

100 ارب سپر کمپیوٹرز کے برابر انسانی ذہن کے ارتقا، استعمال اور مغالطوں کا احوال