امریکی فوج نے وینزویلا کے مختلف شہروں پر حملے کیے ہیں، اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے، جبکہ امریکی عدالت نے ان پر فرد جرم بھی عائد کردی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کی گئی۔
امریکا کی خصوصی فورسز نے وینزویلا میں کارروائی کیسے کی؟
امریکی فوج کی اعلیٰ انسداد دہشت گردی یونٹ ‘ڈیلٹا فورس’ نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘فاکس اینڈ فرینڈز’ سے گفتگو میں بتایا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک ایسے مکان سے گرفتار کیا گیا جو قلعے کی طرح محفوظ تھا۔
یہ بھی پڑھیے: وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرنے کی ویڈیو لائیو دیکھی، نیویارک لا رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کے پاس اسٹیل کے دروازے کاٹنے کے لیے بڑے بلاسٹ ٹورچ موجود تھے، لیکن مادورو اس علاقے میں داخل نہیں ہو سکے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس آپریشن میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا اور معمولی زخمی ہوئے، جبکہ انہوں نے یہ کارروائی براہِ راست دیکھی۔ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک جہاز پر سوار کر کے نیو یارک لے جایا جا رہا ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق، سی آئی اے کا ایک خفیہ ماخذ جو وینزویلا کی حکومت کے اندر تھا، نے مادورو کی موجودگی کا تعین کرنے میں امریکی افواج کی مدد کی۔ یہ آپریشن مہینوں کی منصوبہ بندی اور دیگر خفیہ معلومات پر مبنی تھا۔
مریکی سینیٹر مائیک لی نے بتایا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں مزید کارروائی کی توقع نہیں ہے۔
مادورو کون ہیں اور کیوں گرفتار کیے گئے؟
نیکولس مادورو نے وینزویلا کے سابق صدر ہگو شاویز کے زیر قیادت سیاسی منظرنامے میں قدم رکھا اور 2013 میں چاویز کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں مادورو کو فاتح قرار دیا گیا، تاہم اپوزیشن کے مطابق ان کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز نے واضح اکثریت سے جیت حاصل کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: وینزویلا پر امریکی حملے پر دنیا کو تشویش لاحق، یورپی ملک نے ثالثی کی پیشکش کردی
مادورو امریکی حکومت کے ساتھ تنازعات میں رہے، خاص طور پر وینزویلا سے امریکا آنے والے مہاجرین اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے معاملات پر۔ صدر ٹرمپ نے دو وینزویلا نڈرل گروہوں، ٹرین ڈی ارواگا اور کارٹیل دے لوس سولیس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا اور الزام لگایا کہ کارٹیل دے لوس سولیس کی قیادت مادورو خود کر رہے تھے۔
امریکی حکومت نے مادورو کی گرفتاری کے لیے معلومات پر پچاس ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔
مادورو نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور امریکی ‘منشیات کے خلاف جنگ’ کو اپنے خلاف سازش قرار دیا، جس کا مقصد وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا بتایا۔
گزشتہ چند مہینوں میں امریکی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں کئی کارروائیاں کیں، جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے، جن پر الزام تھا کہ وہ امریکا میں منشیات اسمگل کر رہے تھے۔














