کراچی کے علاقے مائی کولاچی میں مین ہول سے برآمد ہونے والی خاتون اور اس کے 3 بچوں کی لاشوں کے دلخراش واقعے میں پولیس نے پیش رفت کرتے ہوئے مبینہ قاتل کو گرفتار کر لیا ہے، جب کہ واقعے کے پس منظر اور پوسٹ مارٹم کی تفصیلات نے قتل کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی، مین ہول سے ملنے والی لاشوں پر تشدد کے واضح شواہد، پوسٹ مارٹم مکمل
کراچی پولیس نے مائی کولاچی کے قریب مین ہول سے ملنے والی 4 لاشوں کے کیس میں مرکزی ملزم مسرور حسین کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نے خاتون انیلا اور اس کے 3 کم سن بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ انیلا ایک عرصے سے بچوں کے ساتھ تنہا رہائش پذیر تھی اور ڈھائی سال قبل شوہر سے طلاق کے بعد بچوں کی کفالت خود کر رہی تھی۔ واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب مقتولہ کے بھائی مصطفیٰ نے بہن سے رابطہ منقطع ہونے پر اس کے گھر جا کر تفتیش کی، جہاں تالا لگا ہوا ملا۔ بعد ازاں علاقے میں مین ہول سے لاشوں کی برآمدگی نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق چاروں لاشیں کئی روز پرانی تھیں اور ان پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔ پولیس سرجن کے مطابق ایک لڑکے کی عمر تقریباً 13 سے 14 سال تھی جس کے سر، چہرے اور گردن پر تشدد کے آثار پائے گئے، جب کہ دوسرے لڑکے، جس کی عمر تقریباً 10 سال بتائی گئی، کی لاش گلا کٹی ہوئی حالت میں ملی۔ اسی طرح ایک 14 سے 15 سالہ لڑکی اور تقریباً 40 سالہ خاتون کی لاش پر بھی شدید تشدد کے نشانات پائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:گٹر کے ڈھکن چوری کرنے والوں کو موقع پر لا کر گولی ماری جائے، خواجہ آصف شدید غصے میں کیوں؟
پس منظر کے طور پر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر لاشیں مسخ شدہ حالت میں ملنے کے باعث ان کی شناخت اور موت کے وقت کے تعین میں مشکلات پیش آئیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ابتدا میں اندازہ تھا کہ لاشیں 10 سے 15 روز پرانی ہیں، تاہم مزید شواہد سے یہ مدت 15 سے 20 روز تک بھی ہو سکتی ہے۔
واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے، قریبی علاقوں کے سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کیے اور کیمیائی تجزیے کے لیے نمونے بھجوا دیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حتمی فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد قتل کے محرکات اور دیگر ممکنہ کرداروں کے حوالے سے مزید حقائق سامنے آئیں گے، جب کہ گرفتار ملزم سے تفتیش کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔












