امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا کی حکومتوں کو مبہم لیکن سخت وارننگز جاری کی ہیں۔ واشنگٹن کی اس فوجی کارروائی نے بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید پیدا کی ہے، اور تینوں ممالک نے اسے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وینزویلا کے عوام کو آزادی دی، نئی حکومت آنے تک ملک ہم چلائیں گے، معزول صدر پر مقدمہ ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
روسی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے مادورو کو ’نارکو-ٹیریسٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو کو خاص طور پر نگرانی میں رکھنا پڑے گا کیونکہ وہاں کوکین کی فیکٹریاں موجود ہیں۔ ٹرمپ نے کیوبا کے بارے میں بھی اشارہ دیا کہ واشنگٹن وینزویلا کی طرح، کامیاب نہ ہونے والے ملک کے عوام کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
After bombing Venezuela and abducting President Nicolás Maduro, Donald Trump said the US government is "going to run the country" until there is a "transition" to pro-US leadership.
He boasted that "very large" US corporations will exploit its oil.
This is blatant colonialism. pic.twitter.com/Cy44HmRdpG
— Ben Norton (@BenjaminNorton) January 3, 2026
میکسیکو میں منشیات کارٹلز کا مسئلہ
ٹرمپ نے میکسیکو کے صدر کلاؤڈیا شینباؤم پاردو پر الزام عائد کیا کہ وہ منشیات کارٹلز کے دباؤ کے تحت خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو میکسیکو میں کارٹلز کے خلاف کچھ کرنا ہوگا کیونکہ یہ ملک کو خود کارٹلز کنٹرول کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل
واشنگٹن کی کارروائی پر عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ میکسیکو نے اس مداخلت کو علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، کیوبا نے حملے کو ’بزدلانہ اور مجرمانہ‘ کہا ہے جبکہ کولمبیا نے ’یکطرفہ فوجی کارروائی‘ کی شدید مذمت کی۔
یہ بھی پڑھیں:وینزویلا رجیم چینج، کیا امریکا ایک گہری دلدل میں پھنس رہا ہے؟
تینوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ لاطینی امریکا اور کیریبین کو امن کا خطہ برقرار رکھنا چاہیے، اور امریکی کارروائی کو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔













