بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں اتوار کے روز مختلف علاقوں میں احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے باعث ٹریفک کا شدید بحران پیدا ہوگیا، جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔
موبائل فون تاجروں اور طلبہ تنظیموں نے شہر کے مصروف ترین مقامات فارم گیٹ، کاروان بازار کے سارک فاؤنٹین اور ہاتھیرپول سمیت کئی اہم چوراہوں کو بند کر دیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش پر بعض علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں متنازع بیان وائرل ہونے پر طلبا تحریک کے مقامی رہنما گرفتار
پولیس کی کارروائی، آنسو گیس اور لاٹھیاں استعمال
پولیس نے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے آنسو گیس، ساؤنڈ گرینیڈ اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ اس دوران مظاہرین نے بعض مقامات پر آگ لگائی اور پتھراؤ بھی کیا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔
عوام شدید پریشان، پیدل سفر پر مجبور
احتجاج کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ بڑی حد تک معطل رہی، جس کے نتیجے میں شہریوں کو طویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے۔ اسپتال جانے والے مریضوں اور دفاتر پہنچنے والے ملازمین نے بتایا کہ جو سفر عام طور پر 20 منٹ میں طے ہو جاتا ہے، اس میں ایک گھنٹے سے زائد وقت لگ گیا۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش میں بی این پی رہنما فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروع
ایک شہری نے بتایا کہ وہ اپنی والدہ کو اسپتال لے جا رہا تھا لیکن سڑک بند ہونے کے باعث تقریباً ایک گھنٹہ پھنسے رہے۔ شاہ باغ جانے والے ایک تاجر نے کہا کہ اسے سامان اٹھا کر پیدل جانا پڑا اور مظاہرین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
طلبہ کا احتجاج، بعد ازاں واپسی
تیجگاؤں کالج کے طلبہ نے بھی صبح کے وقت فارم گیٹ پر احتجاج کیا، وہ اپنے ایک ساتھی شکیب الحسن رانا کی ہلاکت پر احتجاج کر رہے تھے، جو ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور 10 دسمبر کو زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہوگئے۔ تاہم چند گھنٹوں بعد سڑک کھول دی گئی۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں دوپہر تک شدید ٹریفک جام رہا۔
تاجروں کے مطالبات، پولیس کا مؤقف
پولیس کے مطابق موبائل فون تاجروں نے اپنے کاروبار سے متعلق متعدد مطالبات کے حق میں دھرنا دیا تھا۔ مظاہرین کے دوبارہ جمع ہونے کی کوششوں پر پولیس نے کئی بار مداخلت کی۔
ڈھاکا میں ٹریفک بحران معمول، مگر صورتحال سنگین
ڈھاکا میں سیاسی پروگراموں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران ٹریفک جام معمول کی بات ہے، تاہم اتوار کے روز ایک ہی وقت میں متعدد مرکزی شاہراہوں کی بندش نے شہریوں کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔














