برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ رائل ایئر فورس کے طیاروں نے فرانس کے ساتھ مل کر شام میں ایک زیرِ زمین تنصیب پر فضائی حملہ کیا جو ممکنہ طور پر دہشت گرد تنظیم داعش اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب خطے میں داعش ایک عرصے کی خاموشی کے بعد دوبارہ سرگرم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق، یہ حملہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حملے کا ہدف بننے والا علاقہ قدیم شہر پالمیرا کے شمال میں واقع تھا اور وہاں کوئی شہری آبادی موجود نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیے: ترکیہ میں داعش کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، داعش سے وابستہ 350 سے زائد مشتبہ افراد گرفتار
ادھر امریکی فوج نے گزشتہ ماہ دسمبر کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ اس نے 9 دنوں کے دوران شام میں داعش کے تقریباً 25 جنگجوؤں کو ہلاک یا گرفتار کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کو جاری بیان میں ان کارروائیوں کے اختتام کی تصدیق کی۔
یہ امریکی کارروائیاں 13 دسمبر کو شام میں داعش کے حملے میں 2 امریکی فوجیوں اور ایک سویلین مترجم کی ہلاکت کے بعد کی گئیں، جس کے 6 دن بعد داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے گئے تھے۔
دوسری جانب ترکیہ نے بھی داعش کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ ترک حکومت کے مطابق، ملک بھر میں کیے گئے چھاپوں کے دوران 125 مشتبہ داعش افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیرِ داخلہ علی یرلیکایا نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں 25 صوبوں میں عمل میں آئیں، جن میں دارالحکومت انقرہ بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ترکیہ میں کرسمس تقریبات کو نشانہ بنانے کی داعش سازش ناکام، 115 افراد گرفتار
یہ کارروائی ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں تیسری بڑی مہم ہے۔ اس سے قبل منگل کو شمال مغربی شہر یالووا میں ترک پولیس اور داعش کے مشتبہ ارکان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں تین پولیس اہلکار اور چھ داعش جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔ اگلے ہی دن سیکیورٹی فورسز نے مزید 357 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔














