مہنگائی، منافع خوری اور رہائش کا بحران: پاکستان کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کا مستقبل کیا ہے؟

پیر 5 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں زمین کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ریئل اسٹیٹ میں منافع خوری نے عام شہری کے لیے گھر کا حصول مشکل بنا دیا ہے، جبکہ بڑے سرمایہ کاروں کے مسلسل داخلے نے مارکیٹ میں عدم توازن بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے جائیداد کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ، رہائشی بستیوں کی بے لگام توسیع اور غیر حقیقی سرمایہ کاری نے نہ صرف عام آدمی کے لیے گھر کا حصول قریباً ناممکن بنا دیا ہے بلکہ سماجی اور معاشی ناہمواری کو بھی تشویشناک حد تک بڑھا دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکس چوری روکنے کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی تیاری مکمل، بھاری جرمانے تجویز

اس تمام صورتِ حال میں اصل سوال یہ ہے کہ زمین کو دولت کا ذریعہ بنا دینے والی یہ سوچ پاکستان کے مستقبل کو کس سمت لے جا رہی ہے۔ کیا یہ ملک کو مضبوط کرے گی یا معاشرے میں مزید تقسیم پیدا کرے گی؟

پاکستان میں جائیداد کو ہمیشہ سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے، رانا اکرم

اس حوالے سے بار کرتے ہوئے نائب صدر فیڈریشن آف ریئلٹرز پاکستان رانا محمد اکرم نے کہاکہ پاکستان میں زمین اور جائیداد کو ہمیشہ سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے۔ عوام کی معاشی سوچ میں زمین ایک ایسا اثاثہ ہے جس کی قدر وقت کے ساتھ بڑھتی ہے، اسی لیے لوگ دیگر کاروباروں کی نسبت اسے زیادہ قابلِ بھروسہ سمجھتے ہیں۔ زمین کو نہ صرف دولت کا ذریعہ بلکہ معاشی استحکام کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔

ان کے مطابق اگر زمین اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری منظم انداز میں ہو تو یہ پورے معاشی ڈھانچے کو فعال کرتا ہے۔ اس شعبے سے درجنوں صنعتیں، ہزاروں محنت کش اور بے شمار کاروبار وابستہ ہوتے ہیں، اسی لیے اسے صنعتوں کی ماں قرار دیا جاتا ہے۔

تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ جب سرمایہ صرف زمین خرید کر رکھنے اور منافع خوری کے مقصد سے استعمال ہو تو معاشی توازن بگڑ جاتا ہے۔ ایسی سرمایہ کاری نہ صرف زمین کی قیمتوں میں غیر فطری اضافہ کرتی ہے بلکہ رہائش کے بحران کو بھی جنم دیتی ہے۔

’جائیداد میں بے تحاشا منافع خوری نے معاشرے میں غیر معمولی تفاوت پیدا کیا‘

رانا محمد اکرم کے مطابق جائیداد میں بے تحاشا منافع خوری نے معاشرے میں غیر معمولی تفاوت پیدا کیا ہے۔ بڑے سرمایہ کار وسیع زمینیں خرید کر محفوظ رکھتے ہیں جبکہ عام شہری کے لیے گھر خریدنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ زمین چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے سے طبقاتی فرق میں اضافہ ہو رہا ہے اور معاشرتی توازن بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

حکومت کی موجودہ پالیسیوں میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے رانا اکرم نے کہاکہ ملک میں ایک ایسا مضبوط اور بااختیار ادارہ موجود نہیں جو زمین، رہائشی منصوبوں اور تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی کرے۔ رجسٹریشن اور ریکارڈ کے نظام میں بے قاعدگیاں، پالیسیوں کا بار بار بدلنا، ٹیکس قوانین کی پیچیدگیاں اور منظوریوں کا غیر شفاف طریقہ کار اس شعبے کو بدعنوانی، غیر یقینی صورتحال اور بے اعتمادی کی طرف لے جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بے شمار رہائشی منصوبے بغیر مکمل منظوری کے کام کرتے ہیں، جس سے عوام براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔

’ملک میں فوری طور پر سخت اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہے‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں فوری طور پر سخت اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایک بااختیار ریگولیٹری ادارہ قائم کرکے زمین کے ریکارڈ، ملکیت اور منتقلی کے تمام مراحل کو شفاف، مستند اور قابلِ تصدیق بنایا جائے۔

رانا اکرم نے کہاکہ منافع خوری پر قابو پانے کے لیے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کی جائیں اور عام شہری کے لیے کم لاگت رہائش اور سہل مالی معاونت کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ اسی طرح سرکاری اور نجی منصوبوں کی نگرانی، جانچ پڑتال اور تکمیل کے مراحل کو سخت ضابطوں میں لایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور بازار مستحکم ہو۔

انہوں نے خبردار کرتے کیا کہ زمین کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی کے لیے اپنا گھر حاصل کرنا قریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ آمدنی اور قیمتوں کے درمیان بڑھتا فرق لوگوں کو کرائے یا غیر معیاری رہائش تک محدود کررہا ہے، جس کا اثر پورے معاشرتی اور خاندانی ڈھانچے پر پڑ رہا ہے۔

مستقبل کے بارے میں رانا محمد اکرم کا کہنا ہے کہ اگلے چند برس اس شعبے کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔ اگر حکومت نے شفافیت، نظم و ضبط اور عوام دوست پالیسیوں کی سمت اختیار کی تو یہ شعبہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا اور معاشی سرگرمیوں کو وسعت دے گا۔ لیکن اگر موجودہ غیر منظم اور منافع خوری پر مبنی رجحان جاری رہا تو مزید معاشی عدم استحکام، رہائش کا بحران اور سماجی بے چینی جنم لے سکتی ہے۔

ان کے مطابق اب بھی وقت ہے کہ درست فیصلے کرکے اس شعبے کو منظم اور عوام کے لیے قابلِ رسائی بنایا جائے۔

پراپرٹی میں سرمایہ کاری ہمیشہ ایک مضبوط اور دیرپا فیصلہ ثابت ہوتی ہے، جبران شوکت

ریئل اسٹیٹ ایکسپرٹ جبران شوکت عباسی نے کہاکہ پاکستان میں ریئل اسٹیٹ آج بھی محفوظ ترین سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہے۔ اس شعبے سے منسلک درجنوں انڈسٹریز ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں، اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ پراپرٹی میں سرمایہ کاری ہمیشہ ایک مضبوط اور دیرپا فیصلہ ثابت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب تعمیراتی سرگرمیاں بڑھتی ہیں تو اسٹیل، سیمنٹ، پینٹ، الیکٹرک اور ماربل جیسی صنعتیں چلتی ہیں، جس سے روزگار میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشی سرگرمی تیز ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی پراپرٹی اب بھی بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں کم قیمت پر موجود ہے۔ لوگوں میں یہ تاثر ہے کہ قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کرایہ جات اب بھی متوازن سطح پر ہیں۔ ایک 5 کروڑ کے گھر کا کرایہ قریباً ڈھائی لاکھ روپے ہونا بنتا ہے، جبکہ 15 کروڑ کی پراپرٹی کا کرایہ ساڑھے سات لاکھ کے قریب ہونا چاہیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رینٹل ریٹرن اب بھی سرمایہ کار کے لیے مناسب ہے۔

’زمین کی قیمتوں میں اضافہ عام ملازمت پیشہ طبقے کے لیے مسئلہ بن رہا ہے‘

جبران شوکت کے مطابق زمین کی قیمتوں میں اضافہ البتہ عام ملازمت پیشہ طبقے کے لیے مسئلہ بن رہا ہے، کیونکہ مناسب گھر خریدنا ان کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود شہر کے مرکزی علاقوں سے باہر خصوصاً نیو ایئرپورٹ، چکری انٹرچینج اور نیول بورڈ کے اطراف اب بھی مناسب قیمتوں پر جگہ مل سکتی ہے جہاں پانچ مرلے کے پلاٹس 2 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک دستیاب ہیں۔

ایک مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میری رائے میں سب سے بڑا مسئلہ مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز کی لیگل حیثیت کے حوالے سے ہے۔ عوام نے اربوں روپے لگائے، لیکن کئی منصوبوں کی این او سی کی حیثیت آج تک واضح نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک ایسا آن لائن سسٹم یا ایپ بنائے جہاں لوگ ریئل ٹائم میں چیک کر سکیں کہ کون سی سوسائٹی منظور شدہ ہے اور کون سی نہیں، تاکہ لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی محفوظ رہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ کچھ عرصے سے ٹیکس پالیسیوں، بینک اکاؤنٹس کی بندش اور آمدن کے ذرائع کی سختیوں نے سرمایہ کاری کو مشکل بنا دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس پالیسی میں نرمی لائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوسکے۔

مستقبل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سی پیک، موٹرویز اور نئے انفراسٹرکچر پراجیکٹس ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے غیر معمولی فائدے لائیں گے۔ نئی سڑکیں نہ صرف زمین کی قیمت بڑھاتی ہیں بلکہ تعلیمی ادارے، صنعتیں اور زرعی شعبے کی ترقی جیسے نتائج بھی ساتھ لاتی ہیں، جبکہ زرعی آبادی کو منڈیوں تک بہتر رسائی ملتی ہے جس سے معیشت مجموعی طور پر مضبوط ہوتی ہے۔

’اگلے 10 سے 15 سال پاکستان کی ریئل اسٹیٹ کے لیے بہت اہم ہوں گے‘

’میری رائے میں اگلے 10 سے 15 سال پاکستان میں ریئل اسٹیٹ کے لیے بہت اہم ہوں گے۔ بڑھتی آبادی، توسیع پاتی شاہراہیں اور سی پیک کے اثرات اس شعبے کو مزید مستحکم اور منافع بخش بنائیں گے۔‘

ریئل اسٹیٹ ایکسپرٹ عدنان قریشی کے مطابق پاکستان کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ اس وقت ایک واضح ’سپیـکولیٹو ببل‘ کا شکار ہے، جہاں قیمتوں میں اضافہ حقیقی ضرورت کے بجائے بے ضابطہ سرمایہ، غیر دستاویزی آمدن اور غیر منظم لین دین سے جنم لے رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں یکساں اور مرکزی زمین کا ریکارڈ موجود نہ ہونا، ریگولیٹری اختیار رکھنے والے ادارے کی عدم موجودگی اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی قانونی حیثیت کا مبہم رہنا اس شعبے کو انتہائی خطرناک معاشی حد تک لے جا چکا ہے۔

مزید پڑھیں: ریئل اسٹیٹ سیکٹر پھر اٹھنے لگا، ڈی ایچ اے کراچی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کیوں؟

عدنان قریشی کے مطابق اگر حکومت نے فوری طور پر ڈیجیٹل لینڈ رجسٹری، سخت ریگولیٹری اتھارٹی اور منافع خوری پر قابو پانے کے لیے مخصوص ٹیکس نظام نافذ نہ کیا تو آئندہ برسوں میں ریئل اسٹیٹ شعبہ قومی معیشت کے لیے شدید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

ان کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک غیر منظم مالیاتی سرگرمی بن چکی ہے جو معیشت کو حقیقی ترقی سے دور کررہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرمپ کی وارننگ کے بعد وینزویلا کی قائم مقام صدر نے مفاہمتی لہجہ اپنالیا

احتجاج کو روکنے کا اختیار، عوامی ایکشن کمیٹی ہمارے ساتھ حکومت کا حصہ بن جائے، وزیراعظم آزاد کشمیر کی پیشکش

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، چین اور روس کا وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نسیم شاہ کو مہنگی پڑ گئی، آئی سی سی کا بڑا فیصلہ

برطانوی ولی عہد ولیئم اپنے چھوٹے بھائی پرنس ہیری کو وراثت سے محروم کروانے کے لیے کوشاں

ویڈیو

پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری، نئی تاریخ رقم ہوگئی

پاکستان اور چین کا باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

خیبر پولو فیسٹیول 2026 کا پہلا ایڈیشن، گلگت بلتستان نے چترال کو شکست دیدی

کالم / تجزیہ

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟

جنریشن زی سوال ہی تو نہیں اٹھاتی

100 ارب سپر کمپیوٹرز کے برابر انسانی ذہن کے ارتقا، استعمال اور مغالطوں کا احوال