امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد بھی ان کی حکومت کے باقی ارکان وینزویلا کو ’درست‘ کرنے کی امریکی کوششوں میں تعاون نہ کریں تو امریکا وینزویلا پر دوسرا فوجی حملہ بھی کر سکتا ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کے ان بیانات نے لاطینی امریکا میں مزید امریکی فوجی مداخلت کے خدشات کو جنم دیا ہے، کیونکہ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر کولمبیا اور میکسیکو امریکا میں منشیات کی غیر قانونی ترسیل کم کرنے میں ناکام رہے تو انہیں بھی فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب
ٹرمپ نے کہا کہ آپریشن کولمبیا انہیں تو اچھا لگتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وینزویلا کا قریبی اتحادی کیوبا، امریکی فوجی کارروائی کے بغیر ہی ’گرنے کے لیے تیار‘ دکھائی دیتا ہے۔
Sen. @LindseyGrahamSC: "You just wait for Cuba….Their days are numbered." pic.twitter.com/IXqc0I0Jza
— CSPAN (@cspan) January 5, 2026
ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا عملاً وینزویلا کا کنٹرول سنبھال چکا ہے، تاہم واشنگٹن کاراکاس میں نئی قیادت کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔
اسی دوران وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور امریکا سے متوازن اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کی خواہاں ہیں۔
جب صحافیوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ آیا انہوں نے روڈریگز سے بات کی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ان لوگوں سے بات کی جارہی ہے جنہوں نے ابھی حلف اٹھایا ہے۔
مزید پڑھیں:وینزویلا رجیم چینج، کیا امریکا ایک گہری دلدل میں پھنس رہا ہے؟
’یہ مت پوچھیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے، کیونکہ میرا جواب بہت متنازع ہو گا۔‘
مزید وضاحت پر ٹرمپ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختیار ہمارے پاس ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یہ کارروائی تیل کے لیے ہے یا حکومت کی تبدیلی کے لیے، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ دنیا میں امن کے لیے ہے، امریکی صدر نے کہا کہ وینزویلا میں انتخابات کو فی الحال مؤخر کرنا ہوگا۔

’ہم اسے چلائیں گے، درست کریں گے، اور صحیح وقت پر انتخابات کرائیں گے، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک ٹوٹا ہوا ملک ہے جسے پہلے ٹھیک کرنا ضروری ہے۔‘
فتح مندانہ انداز اپناتے ہوئے ٹرمپ نے دیگر امریکی مخالفین پر بھی سخت تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ کولمبیا کے رہنما زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہیں گے، کمیونسٹ حکومت کے زیرِ اقتدار کیوبا گرنے کے قریب ہے اور اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہاں کی قیادت کو ’سخت نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کے صدر کو امریکا میں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے تحویل میں لیا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مادورو حکومت کے باقی ماندہ حصوں کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے مقاصد پورے ہوں، جن میں وینزویلا کے وسیع خام تیل کے ذخائر تک امریکی سرمایہ کاری کی رسائی بھی شامل ہے۔
نکولس مادورو اس وقت نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں قید ہیں اور پیر کو منشیات کے مقدمے میں عدالت میں پیشی کے منتظر ہیں۔
امریکا کی جانب سے ان کی گرفتاری نے تیل سے مالا مال جنوبی امریکی ملک کے مستقبل کے بارے میں شدید بے یقینی پیدا کردی ہے۔
NOW: a massive picket has formed in front of the Metropolitan Detention Center in Brooklyn where Venezuela’s President, Nicolas Maduro was taken after being illegally kidnapped by the Trump administration yesterday.
New Yorkers chant their demands of Trump: “no more coups, no… pic.twitter.com/3DPCNhRcVq
— The People's Forum (@PeoplesForumNYC) January 4, 2026
مادورو حکومت کے اعلیٰ حکام تاحال اقتدار میں موجود ہیں اور انہوں نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کی گرفتاری کو ’اغوا‘ قرار دیا ہے۔
وزیر داخلہ ڈیوسدادو کیبیلو نے حکمران سوشلسٹ پارٹی پی ایس یو وی کی جانب سے جاری ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ یہاں صرف ایک ہی صدر ہے، اور اس کا نام نکولس مادورو موروس ہے، دشمن کی اشتعال انگیزی میں کوئی نہ آئے۔
63 سالہ مادورو کی آنکھوں پر پٹی اور ہتھکڑیاں لگی تصاویر نے وینزویلا کے عوام کو ششدر کر دیا۔ یہ کارروائی پاناما پر 37 سال قبل امریکی حملے کے بعد لاطینی امریکا میں سب سے متنازع امریکی مداخلت قرار دی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:امریکا کا وینزویلا پر حملہ اور صدر مادورو کی گرفتاری، دنیا کیا ردعمل دے رہی ہے؟
وزیر دفاع جنرل ولادیمیر پادرینو نے سرکاری ٹی وی پر بتایا کہ امریکی حملے میں فوجی اہلکاروں، عام شہریوں اور مادورو کی سیکیورٹی ٹیم کے ایک بڑے حصے کو سرد مہری سے قتل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وینزویلا کی مسلح افواج نے ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
کیوبا کی حکومت نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں اس کے 32 شہری مارے گئے۔
وینزویلا کی اعلیٰ عدالت کی حمایت کے ساتھ نائب صدر اور وزیر تیل ڈیلسی روڈریگز نےعبوری صدر کا عہدہ سنبھال لیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ مادورو ہی بدستور ملک کے صدر ہیں۔













