4 جنوری کی تاریخ: آسٹریلیا، میلبورن کا کرکٹ گراؤنڈ۔ ایشز کا آخری ٹیسٹ میچ۔ ہر رنگ و نسل کے 50 ہزار تماشائی۔ ان سب کی دلچسپی کا مرکز میچ نہیں، میچ سے پہلے منعقد ہونے والی 10 منٹ کی تقریب۔ کرکٹ آسٹریلیا کے تمام عہدیدار، دنیا بھر کے معروف لوگ اسٹیڈیم میں جمع۔ دنیا بھر کے کروڑوں لوگ اپنے ٹی وی پر نظریں جمائے ہوئے۔ میچ کے آغاز سے پہلے اناؤنسر پورے جوش و جذبے سے کہتا ہے: اب تشریف لاتے ہیں قوم کے وہ ہیرو جنہوں نے 14 دسمبر کو بونڈائی کے ساحل پر ہونے والی دہشتگردی میں دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔ 50 ہزار لوگ اپنی نشستوں سے یکدم کھڑے ہو گئے۔
شکرانے کی تالیوں اور تحسین کے نعروں سے سارا اسٹیڈیم گونج اٹھا۔ سب نے یک زبان ہو کر “Forever in our heart” کا ترانہ پڑھا۔ جن ہیروز کا شکریہ ادا کیا گیا ان میں پیرا میڈیکل اسٹاف بھی تھا، پولیس افسران بھی تھے، وہ ڈاکٹرز اور نرسیں بھی تھیں جو چھٹی کے دن زخمیوں کی مدد کو پہنچے، لائف گارڈ بھی تھے جو جائے وقوع پر موجود تھے۔
چایا دادون نامی ایک 14 سالہ سیاہ فام لڑکی بھی بیساکھیوں کے سہارے موجود تھی جسے فائرنگ کے دوران زخمی ہونے کے باوجود زخمیوں کی حفاظت کرتے دیکھا گیا۔ سب سے آخر میں احمد الاحمد سامنے آئے۔ ان کا زخمی بازو اب تک سلنگ میں لپٹا ہوا تھا۔ احمد نے 14 دسمبر کو اس دہشتگردی کے واقعے میں ایک دہشتگرد سے بندوق چھین کر بے شمار لوگوں کی جانیں بچائیں۔ سارا اسٹیڈیم احمد کے آنے پر جوش و جذبے سے بھر گیا۔ 50 ہزار تماشائیوں کی آنکھوں میں آنسو۔ ہزاروں ہاتھ دعا کے لیے بلند۔
کسی ایک تماشائی نے یہ سوال نہیں کیا کہ احمد تو مسلمان ہے اور حملہ یہودیوں پر ہوا ہے تو ہم اس کا شکریہ کیوں ادا کریں؟ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ 14 سالہ لڑکی تو سیاہ فام ہے ہم اس کی شان میں کیوں گیت گائیں؟ کسی نے یہ جرات نہیں کی کہ یہ نرسیں تو کسی اور ملک سے آئی ہیں ہم ان کی تعظیم کیوں کریں؟ کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ کہے کہ یہ ڈاکٹر تو کسی اور قوم اور صوبے کے ہیں ہم ان کے اعزاز میں تحسین کے نعرے کیوں لگائیں؟ 50 ہزار لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی کوئی متنازع سوال نہیں کیا۔ کوئی اختلاف نہیں کیا۔ سب کو پتا تھا کہ مشکل وقت میں کس نے مدد کی؟ کس نے دلیری دکھائی؟ کون سیسہ پلائی دیوار بنا ؟
احمد ایک شامی النسل غریب دکاندار۔ وہ پھل سبزی کی ریڑھی لگاتا۔ محنت مزدوری کرکے گزارا کرتا۔ اس کی 2 کم سن بیٹیاں ہیں۔ اس نے ایک دہشتگرد پر قابو پا کر درجنوں جانیں بچائیں ۔ احمد نے کسی سے مالی مدد کی اپیل نہیں کی۔ لیکن پوری آسڑیلوی قوم نے دلیری کے اس کارنامے پر اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی۔ ساری دنیا سے لوگوں نے اس میں حصہ لیا۔ اب تک احمد کے اکاؤنٹ میں“GO FUND ME” مہم کے تحت 42 کروڑ سے زائد روپے جمع ہو چکے ہیں اور ساری دنیا سے تشکر کا یہ سلسلہ تھم ہی نہیں رہا۔
میچ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ دنیائے کرکٹ کی 2 بڑی ٹیمیں اپنے ہیروز کو دست بستہ گارڈ آف آنر پیش کرنے کو تیار تھیں۔ کرکٹ کے عظیم ستارے ان ہیروز سے ہاتھ ملانے، ان کو گلے لگانے، انکے ہاتھ چومنے کو سعادت سمجھ رہے تھے۔ تحسین کے لیے بجنے والی تالیاں کسی طور تھم نہیں رہی تھیں۔ تشکر کے نعرے رک ہی نہیں رہے تھے۔ جوش و جذبے کا یہ عالم تھا کہ 50 ہزار تماشائیوں میں سے کوئی اپنی نشستوں پر بیٹھنے کو تیار ہی نہیں تھا۔
اناؤنسر کی آواز جوشِ عقیدت سے بھر گئی۔ تعظیم کے آنسو کتنی ہی پلکوں سے چھلک پڑے۔ ہر قوم، ہر مذہب، ہر نسل کے لوگ ان شجیع لوگوں کے لیے ممنونیت کا اظہار کر رہے تھے۔ احسان مندی کے جذبات ہر طرف سے امڈ رہے تھے۔ ساری قوم یک جان اور یک زبان ہو کر دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے والوں کی ممنون ہو رہی تھی۔ 10 منٹ کی تقریب میں آسٹریلیا والوں نے بتادیا کہ دہشتگردی کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اور اس مقابلے میں فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کی عزت کیسے کرنی ہے۔
یہ بات کہتے کہتے زبان تھک گئی ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ یہ سچ بتاتے بتاتے ہم ہلکان ہو گئے ہیں کہ 80 ہزار کے قریب فوج کے جوان، پولیس کے سپاہی، رینجرز کے عہدیدار، ڈاکٹرز، نرسیں اور عام شہری دہشتگردی کے حملوں میں جان سے گذر چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی ہم نے اتنی عزت نہیں دی جتنی آسٹریلیا میں اس 10 منٹ کی تقریب میں کی گئی۔
سیاسی، علاقائی، لسانی، کاروباری اور ذاتی مفادات نے ہمیں ایک سازش کے تحت دہشتگردی کے معاملے میں ابہام، تذبذب اور شکوک کا شکار کیا گیا۔ کوئی کہتا ہے ان دہشتگردوں سے لڑو نہیں، انہیں اپنے گھر میں بساؤ۔ کوئی جواز پیش کرتا ہے کہ ان کا خاتمہ نہ کرو، ان سے مذاکرات کرو۔ کوئی دلیل دیتا ہےکہ یہ افغانستان سے آتے ہیں اس لیے انہیں قتل و خون کی آزادی دے دو۔ کوئی مذہب کی آڑ لے کر کہتا ہے کہ یہ دہشتگرد بھی مسلمان ہیں، ان کے خلاف لڑنا درست نہیں۔ کوئی اشتعال دلاتا ہے کہ ہے چونکہ اس ملک میں مارشل لا لگتے رہے اس لیے شہدا کی تحسین کی ضرورت نہیں۔
کوئی زہر اگلتا ہے کہ ایک سیاسی لیڈر چونکہ فوج کے خلاف ہے اس لیے ان شہدا کی حرمت کی ضرورت نہیں۔ کوئی توجیح پیش کرتا ہے کہ 9 مئی کو شہدا کی یادگار جلانے والے حق بجانب تھے۔ کوئی ان دلیروں کی قربانیوں پر طنز کرتا ہے، کوئی ’جین زی‘ سے ان کے خلاف آرٹیکل لکھواتا ہے۔ کوئی نوجوان نسل کے ذہنوں میں ان شہیدوں کے خلاف زہر بھرتا ہے۔
بدقسمتی سے ہر روز خبر آتی ہے کہ آج سیکیورٹی فورسز کے اتنے جوان دہشتگردی کی جنگ میں شہید ہو گئے۔ ان میں سے کسی ایک شہید کی بھی ہم نے بحیثیتِ قوم اتنی عزت کی ہوتی جتنی اس میچ میں دہشتگردوں سے لڑنے والوں کی گئی تو یقین مانئے اس ملک سے دہشتگردی ختم ہو چکی ہوتی۔
یاد رکھیے جب کوئی شیر دل جوان دہشتگردوں کا مقابلہ کرتا، جان اس ارضِ پاک پر نچھاور کرتا ہے تو یہ وقت تاریخ کے طعنے دینے کا نہیں ہوتا، یہ لمحہ سیاسی اختلاف چکانے کا نہیں ہوتا، یہ وقت مصلحتوں کا شکار ہونے کا نہیں ہوتا۔ یہ مقام صرف اور صرف تشکر، توقیر، تسلیم، تعظیم اور تحسین کا ہوتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف فوج نہیں، پوری قوم لڑتی ہے۔ جب قوم کے ذہن سے ابہام ختم ہو جائے گا، جب شکوک پیدا کرنے والوں کو یقین دلا دیا جائے گا، جب دہشتگردوں کے حق میں بیانیے بنانے والے پس منظر میں چلے جائیں گے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فتحِ مبین مقدر بنے گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












