شالیمار باغ میں ہونے والی میوزک اینڈ کلچرل نائٹ کے دوران معروف قوال فراز خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ’نک دا کوکا‘ گانے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ شالیمار گارڈن لاہور کے انچارج ضمیر الحسن کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں اشتعال انگیزی پھیلانے اور امن عامہ کے خلاف دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق شالیمار باغ میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے زیر اہتمام ’چاندنی راتوں‘ کے عنوان سے میوزک اینڈ کلچرل نائٹ منعقد کی گئی تھی جو ایک ثقافتی تقریب تھی۔ اس تقریب میں کسی بھی قسم کے سیاسی مواد یا سیاسی نعرے بازی کی اجازت نہیں تھی۔
🚨🚨#BREAKING 🚨🚨
سرکاری سرپرستی میں میوزیکل نائٹ شو پر مقدمہ درجوالڈ سٹی اتھارٹی کے زیر اہتمام شالیمار باغ میں میوزک اینڈ کلچرل نائٹ
"چاندنی راتوں" میں قوالی و میوزیکل نائٹ کا اہتمام کیا گیا
پروگرام میں قوال فراز خان و ہمنواہ نے قوالی پیش کی
شو کے دوران اڈیالہ جیل کے قیدی… pic.twitter.com/GBl80OwlU7
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) January 4, 2026
تاہم 3 فروری کو قوالی نائٹ کے دوران فراز خان اور ان کے ساتھی قوالوں نے بغیر اجازت سیاسی نوعیت کا نغمہ گایا، جس کے بول ’جیل اڈیالہ قیدی 804‘ تھے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس گانے سے شرکاء میں جوش و اشتعال پیدا ہوا اور امن عامہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا جس کے بعد انتظامیہ نے پرفارمنس روک دی۔
قوال فراز خان نے اس سلسلے میں موقف اپنایا کہ انہوں نے اپنی پرفارمنس کے دوران ایک شخص کی دھمکی پر مجبوراً دو بول گائے اس شخص نے دھمکی دی تھی کہ قیدی نمبر 804 والا گانا گاؤ اگر گانا نہ گایا تو جب تم لوگ باہر نکلو گے تو ہم تم سے نمٹ لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’نک دا کوکا‘ کا نیا ورژن: ’ملکو اور سارا الطاف کو آخر راتوں رات کیا ہوگیا؟‘
فراز خان کے مطابق پروگرام ختم ہونے کے بعد انتظامیہ کو اس واقعے سے آگاہ بھی کیا۔ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فرمائش نہ ماننے کی صورت میں ان کی یا ان کے ساتھیوں کی جان کو خطرہ ہوتا تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ اس واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں اور بلاجواز مقدمہ خارج کروایا جائے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ سابق سینیٹر اور سیاسی رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اس کیس کی ایف آئی آر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’قوال فراز خان کا یہ فعل انتہائی غیر ذمہ درانہ اور قابل مذمت ہے،اِس سے عوام میں جوش اور اشتعال پیدا ہوا‘۔ یہ ایف آئی آر کا متن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے اوپر گول کرنا اور کسے کہتے ہیں؟
۔۔”قوال فراز خان کا یہ فعل انتہائی غیر ذمہ درانہ اور قابل مذمت ہے۔ “ ۔۔۔”اِس سے عوام میں جوش اور اشتعال پیدا ہوا۔ “ ایف آئی آر کا متن۔ اَپنے اوپر گول کرنا اور کَسے کہتے ہیں ؟ https://t.co/Q4M2exOCOv
— Mustafa Nawaz Khokhar (@mustafa_nawazk) January 4, 2026
محمد عمیر نے لکھا کہ میری ابھی قوال فراز امجد خان سے بات ہوئی ہے ان کے مطابق تقریب میں موجود ایک بندے نے دھمکی دے کر ان سے یہ گانا ’نک دا کوکا‘ گوایا۔ فراز امجد کے مطابق وہ ن لیگی ہیں اور ن لیگ کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔
میری ابھی قوال فراز امجد خان سے بات ہوئی ہے انکے مطابق تقریب میں موجود ایک بندے نے دھمکی دیکر ان سے یہ گانا "نہ دا کوکا" گوایا۔ فراز امجد کے مطابق وہ ن لیگی ہیں اور ن لیگ کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔ pic.twitter.com/s5RGHXFiPN
— Muhammad Umair (@MohUmair87) January 4, 2026
حیدر مجید لکھتے ہیں کہ یہ ڈر کی انتہا ہے کہ قوالی نائٹ میں قیدی نمبر 804 گانے پر قوالوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ڈر کی انتہاء ۔۔۔
قوالی نائٹ کے دوران فراز خان اور ساتھیوں نے اشتعال انگیز نغمہ قیدی نمبر 804 گایا جس سے عوام میں اشتعال پیدا ہوا۔ اور پولیس نے قوالوں پہ مقدمہ درج کر دیا۔ pic.twitter.com/ijS3R0t2m5— Haider Majeed (@AdvHaiderMajeed) January 4, 2026













