لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش، کلاسز معطل

پیر 5 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور میں واقع ایک نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے طلبا کی حفاظت اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تمام تدریسی سرگرمیاں معطل کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ کی خود کشی، پولیس کیا کہتی ہے؟

یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام کلاسز آن لائن منتقل کرنے اور یونیورسٹی بلڈنگز کو وقتی طور پر بند رکھنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق آئندہ ہدایات تک کسی بھی قسم کا تدریسی عمل نہیں ہوگا، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ طلبا کی ذہنی اور جسمانی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

اسپتال منتقل

طالبہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے بعد اسے لاہور جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ طبی ماہرین نے مختلف ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد ابتدائی طبی رپورٹ تیار کر لی ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبہ تاحال ہوش میں نہیں آ سکی اور اس کی حالت تشویشناک قرار دی گئی ہے۔ طبی معائنہ میں انکشاف ہوا ہے کہ مریضہ کے دماغ میں باریک رگوں سے خون رس رہا ہے جبکہ دماغ میں شدید سوجن بھی موجود ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مریضہ کا بائیں پھیپڑا بری طرح متاثر ہوا ہے۔

طبی رپورٹ کے مطابق مریضہ کے دونوں پاؤں کی ایڑیوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں جبکہ ریڑھ کی ہڈی کے دوسرے اور تیسرے مہرے دب گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مریضہ کے بائیں گھٹنے کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی ہے۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریضہ کو آئی سی یو میں منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں ٹیوب کے ذریعے پھیپڑے کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انتظامیہ کے مطابق واقعے سے متعلق تمام طبی رپورٹس پولیس کو جمع کرا دی گئی ہیں۔

’طالبہ کی حالت خطرے سے باہر ہے‘

یونیورسٹی کے رجسٹرار علی اسلم نے بتایا کہ صبح یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی تھی، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ طالبہ اب خطرے سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبہ نے ستمبر میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔

رجسٹرار کے مطابق ملک میں بڑی تعداد میں لوگ ذہنی دباؤ اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل اویس سلطان کے واقعے پر بننے والی انکوائری کمیٹی اپنی فائنڈنگز مکمل کر چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چند روز کے دوران لاہور کی نجی یونیورسٹی میں ایک اور سانحہ، طالبہ نے دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی

علی اسلم نے کہا کہ اس طالبہ کی حاضری مکمل تھی اور اس کا سی جی پی اے 3.14 تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ طالبہ کا سلیبس مکمل نہ ہونے سے متعلق مختلف باتیں سامنے آ رہی ہیں، تاہم انکوائری مکمل ہونے سے قبل کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں ہوگا، انکوائری مکمل ہونے پر اصل حقائق سامنے آئیں گے۔

رجسٹرار نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی میں طلبا کو داخلے کے وقت اسکالرشپ دی جاتی ہے، جبکہ بعد ازاں پہلے سمسٹر کے نتائج کی بنیاد پر اسکالرشپ کے تسلسل یا تبدیلی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

پی ٹی آئی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور آمنے سامنے، وجہ کیا ہے؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟