خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار ماحول میسر ہے، وزیراعلیٰ کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

منگل 6 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتیں اور سیکیورٹی فورسز ایک مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں، اور اس قومی بیانیے سے ہمیں کوئی بھی ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، وزیراعلیٰ  خیبرپختونخوا کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، اگر دہشتگردوں کے خلاف آپریشن نہیں کرنا تو کیا ان کے پیروں میں بیٹھنا ہے۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم، ریاست اور عوام کی مشترکہ جنگ ہے۔ پاکستان گزشتہ 2 دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار ہے اور گزشتہ سال اس جنگ میں غیر معمولی شدت دیکھنے میں آئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ برس دہشتگردی کے خلاف ایسی کاؤنٹر ٹیررازم کارروائیاں کی گئیں جو ملکی تاریخ میں پہلی بار اس سطح پر ہوئیں۔ اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیا کیے جا رہے ہیں اور گزشتہ سال پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعات کا جامع احاطہ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر کی زبان محتاط تھی، مجھے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی آزادی ہے، خواجہ آصف

انہوں نے واضح کیا کہ خوارج دہشتگرد ہیں اور ان کا اسلام، پاکستان، یا بلوچیت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ عناصر فتنہ ہیں اور دشمن کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ریاست اور عوام میں دہشتگردی کے خلاف اب واضح اور مشترکہ سوچ پیدا ہو چکی ہے، جو اس جنگ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ افغانستان دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے، جہاں سے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ریاستی پالیسی پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے، تاہم کاؤنٹر ٹیررازم کے شعبے میں مزید بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوج، پولیس اور انٹیلیجنس اداروں نے گزشتہ برس مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کیں۔

مزید پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر نے قوم میں ہلچل مچا دی، جنرل فیض حمید کیس کا آخری باب؟

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں 75 ہزار 175 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے 14 ہزار 58 خیبر پختونخوا، 58 ہزار 778 بلوچستان اور 1,739 ملک کے دیگر حصوں میں انجام دیے گئے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سال 2025 کے دوران قریباً 5,300 دہشتگرد مارے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے رہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 1,235 پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جو اس جدوجہد کی بھاری قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبر پختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک اسلام آباد میں پیش آیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی کی بنیادی وجوہات میں سیاسی طور پر سازگار ماحول کا پیدا ہونا بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کے عمران خان کے لیے سخت الفاظ، کیا پی ٹی آئی پر پابندی لگنے جا رہی ہے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ پیش کیے گئے گراف میں لال رنگ دہشتگردوں کی ہلاکتوں جبکہ سبز رنگ شہادتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سال 2021 میں 761 دہشتگردی کے واقعات پیش آئے، جن میں 193 دہشتگرد ہلاک جبکہ 592 پاکستانی شہید ہوئے۔ اس سال ایک دہشتگرد کے مقابلے میں قریباً تین پاکستانی شہادتیں ہوئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سال 2025 میں صورتحال میں نمایاں بہتری آئی، جب 2,597 دہشتگرد مارے گئے جبکہ ایک ہزار 235 شہادتیں ہوئیں، یعنی ایک شہادت کے مقابلے میں 2 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ ان اعداد و شمار سے کاؤنٹر ٹیررازم کی مؤثریت میں واضح رجحان سامنے آتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2021 میں افغانستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلی دہشتگردی میں اضافے کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ دوحہ معاہدے کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال متاثر ہوئی اور افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان کی داخلی سلامتی پر بھی مرتب ہوئے۔

مزید پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پوری قوم کی آواز ہے، وزیر توانائی اویس لغاری

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد 3 بنیادی وعدے کیے تھے، جن میں افغانستان کی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینا، خواتین کو حقوق دینا اور ایک مؤثر و نمائندہ حکومت قائم کرنا شامل تھا، تاہم ان تینوں وعدوں پر کوئی عملی پیشرفت نظر نہیں آتی۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں انکلیوسِو گورنمنٹ کے نہ ہونے سے دہشتگردی کو فروغ ملا اور آج افغانستان دنیا بھر کے دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ وہاں القاعدہ اور داعش جیسی عالمی دہشتگرد تنظیمیں موجود ہیں، جبکہ پاکستان کے خلاف سرگرم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت اور تربیتی مراکز بھی افغانستان میں قائم ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چین کے خلاف ای ٹی آئی ایم اور وسطی ایشیا کے خلاف آئی ایم یو بھی افغانستان میں سرگرم ہیں، جبکہ مختلف نسلوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد عناصر افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شام میں صورتحال تبدیل ہونے کے بعد غیر ملکی دہشتگردوں کی خطے میں منتقلی بھی ہوئی، جو پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

مزید پڑھیں: ’ہم پاکستانی ہیں اور پاک آرمی ہم میں سے ہے‘ ڈی جی آئی ایس پی آر کا قائداعظم یونیورسٹی کا دورہ

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریجنل سطح پر متعدد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں اور مختلف مسلم پراکسیز کو مختلف ممالک سے فنڈنگ اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق قریباً 7.2 ملین ڈالر کی فنڈنگ دہشتگردوں تک پہنچائی گئی، جبکہ بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر حفاظتی آلات بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اندرونی سیاسی دھڑے بندی اور حکومتی کمزوری نے دہشتگردوں کی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا۔ افغان طالبان نے مختلف سطحوں پر مکمل عملداری کے ساتھ ’گریڈ گیم‘ کھیلا، جس کے نتیجے میں دہشتگرد نیٹ ورکس مضبوط ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ 2021 کے بعد افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو منظم کرنا شروع کیا اور بطور مدر آرگنائزیشن ٹی ٹی پی کی تنظیمِ نو کی جاتی رہی۔ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان طرز کا تنظیمی ڈھانچہ دیا گیا، جس میں تربیت، ڈائریکشن اور اسٹریٹیجک گائیڈنس شامل تھی۔

مزید پڑھیں: فیض حمید کورٹ مارشل: ڈی جی آئی ایس پی آر کا عوام کو مشورہ

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان نے امریکا اور اتحادی افواج کے خلاف کامیابی کا ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا، حالانکہ اس کامیابی کے پسِ پردہ اصل عوامل مختلف تھے، جنہیں دانستہ طور پر چھپایا گیا۔ اسی دوران افغانستان میں وار اکانومی دہشتگردی کے لیے ایک اہم ایندھن بن گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بین الاقوامی فنڈنگ رکنے کے بعد دہشتگردی کو آمدن کے مستقل ذریعے کے طور پر اپنایا گیا اور وار اکانومی کو چلانے کے لیے دہشتگردی پورے خطے میں پھیلائی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشتگردی کا سب سے بڑا ہدف اور سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی کے پیچھے واضح سیاسی محرکات، سہولت کاری اور منظم حکمت عملی موجود ہے اور افغانستان میں کیے گئے سیاسی فیصلوں کے براہ راست اثرات پاکستان کی سیکیورٹی پر مرتب ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: ستائیسویں آئینی ترمیم کی گونج: ڈی جی آئی ایس پی آر کا افغانستان کو واضح پیغام

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان نے امریکا اور اتحادی افواج کے خلاف کامیابی کا ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا، تاہم اس بیانیے کے پیچھے موجود اصل وجوہات کو جان بوجھ کر چھپایا گیا۔ اسی دوران افغانستان میں وار اکانومی دہشتگردی کے لیے اہم ایندھن بنی اور بین الاقوامی فنڈنگ رکنے کے بعد دہشتگردی کو آمدن کے مستقل ذریعے کے طور پر اپنایا گیا، جس کے باعث پورے خطے میں عدم استحکام پھیلا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشتگردی کا سب سے بڑا ہدف اور سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، جبکہ دہشتگردی کے پیچھے واضح سیاسی محرکات اور منظم سہولت کاری موجود ہے۔ افغانستان میں کیے گئے سیاسی فیصلوں کے براہ راست اثرات پاکستان کی سیکیورٹی پر مرتب ہوئے، جس کے نتائج آج بھی سامنے آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور چین یک زبان، کابل کو کیا اہم پیشکش کی؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2023 کے اوائل میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جن میں پشاور پولیس لائنز مسجد میں ہونے والا خودکش دھماکا ایک اہم مثال ہے۔ فیلڈ مارشل نے موقع پر واضح کیا کہ یہ عناصر خوارج ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اور اس مؤقف پر پورے پاکستان میں اتفاق پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ریاست کا بیانیہ واضح، دو ٹوک اور غیر مبہم ہے، جس کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ گزشتہ سال 5 ہزار سے زائد دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست اور عوام میں اس جنگ کے حوالے سے مکمل واضح سوچ پیدا ہو چکی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردی ایسی جنگ ہے جس سے لڑنا ناگزیر ہے، کیونکہ دنیا کی کئی ریاستیں دہشتگردی کے باعث عدم استحکام کا شکار ہوئیں۔ 2025 میں دہشتگردی کے واقعات، ہلاک دہشتگردوں اور شہادتوں کا ماہانہ تجزیہ کیا گیا، جبکہ ان اعداد و شمار کو قوم کے سامنے رکھنے کا مقصد شفافیت اور اعتماد کو فروغ دینا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور چین کا افغانستان میں جامع حکومت پر زور، دہشتگردی کے خلاف ٹھوس اقدامات کا مطالبہ

انہوں نے بتایا کہ اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے واقعات پیش آئے، جن پر ریاست پاکستان نے فوری اور مؤثر ردعمل دیا۔ چند ہی گھنٹوں میں افغان سرحدی پوسٹوں کو سخت پیغام دیا گیا اور بعد ازاں سرحد کو عارضی طور پر بند کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا ردعمل دفاعی اور خالصتاً دہشتگردی کے خلاف تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان افغانستان کو بارہا امن اور تعاون کا پیغام دیتا رہا ہے، تاہم بھارت کی جانب سے ان واقعات پر گمراہ کن بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشتگرد اہداف کے خلاف تھیں، جبکہ بھارت کی کارروائیوں میں شہری، خواتین اور بچے متاثر ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنا ریاست پاکستان کا قانونی حق ہے اور اکتوبر میں کی گئی کارروائیاں مخصوص دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف تھیں، کیونکہ پاکستانی موقف کے مطابق ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز سرحد پار موجود تھے۔ پاکستان کسی بھی قسم کی دہشتگردی برداشت نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی ملک کو پاکستانی شہریوں یا انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا حق حاصل ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود نہیں تو اس پر اعتراض کیوں؟ اس حوالے سے قابلِ تصدیق میکنزم بنانے کی پیشکش کی گئی ہے اور ضرورت پڑنے پر غیر جانبدار یا تھرڈ پارٹی کے ذریعے تصدیق بھی کرائی جا سکتی ہے، کیونکہ پاکستان کے پاس دہشتگردوں کی موجودگی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد کی بندش سے پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال میں بہتری، دہشتگرد حملوں میں کتنی کمی آئی؟

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کے 10 بڑے دہشتگردی واقعات کی تفصیلات قوم کے سامنے رکھ دی گئی ہیں، جن میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی، بزدار میں اسکول بس، ایف سی ہیڈکوارٹر، پولیس ٹریننگ اسکول، اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس پر حملے شامل ہیں۔ ان تمام واقعات میں سیکیورٹی فورسز بنیادی ہدف رہیں اور یہ ہائی امپیکٹ حملے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان 10 بڑے واقعات میں 78 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ 60 معصوم شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فہرست قوم کو یاد دہانی کے لیے پیش کی گئی ہے کہ دہشتگردی کا مقصد عام شہریوں میں خوف پھیلانا اور ریاست کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ دہشتگردی کو صرف فوج کی جنگ کہنا غلط ہے، بلکہ یہ پوری قوم، ہر شہری اور ہر خاندان کی جنگ ہے۔ دہشتگردوں کے اہداف میں بازار، اسکول، دفاتر اور رہائشی علاقے شامل ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا ہدف صرف سیکیورٹی فورسز نہیں بلکہ عام عوام ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے متعدد واقعات کے افغان لنکس موجود ہیں اور دہشتگردوں سے افغان شناختی دستاویزات اور شواہد برآمد ہوئے ہیں۔ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس حملے کا مرکزی ملزم افغان کمانڈر تھا، جو افغانستان میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورک سے منسلک تھا۔

مزید پڑھیں: پاک افغان تعلقات میں بہتری کے لیے پاکستانی اور افغانی علما کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ وانا کینٹ کالج حملے کا ملزم عبداللہ تھا، جس نے حملے سے قبل افغانستان میں موجود اپنے ہینڈلرز سے رابطہ کیا۔ تمام شواہد قوم اور عالمی برادری کے سامنے رکھے جا رہے ہیں، کیونکہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف کسی ابہام کو قبول نہیں کرے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں بیٹھ کر کی جاتی رہی، جہاں سے کمانڈرز پاکستان میں کارروائیوں کی ہدایات دیتے تھے۔ منصوبہ بندی کے بعد دہشتگردوں کو پاکستان میں داخل کرایا جاتا رہا، جس کے شواہد 2022 میں سامنے آنے والے متعدد کیسز میں موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امجد علی اور مظاہر ٹی ٹی پی کی سیکنڈ لیول قیادت میں شامل تھے اور ملزمان کے نام اور شواہد بریفنگ میں پیش کیے گئے۔ دہشتگرد نیٹ ورک سرحد پار منظم انداز میں کام کر رہا تھا۔

آخر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستانی عوام، پولیس، فوج اور ایف سی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہدا ملک کے تحفظ اور مستقبل کے لیے جانیں قربان کر گئے۔ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کا مؤقف غیر متزلزل، قانونی اور دفاعی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھارت کو وارننگ

بھارت کی جانب سے ایک بار پھر ممکنہ حملے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں احمد شریف چوہدری نے کہاکہ ہماری قیادت مکمل کلیئر ہے کہ آپ نے دائیں سے آنا ہے یا بائیں سے، کسی کے ساتھ آنا ہے یا اکیلے آنا ہے۔ ایک بار مزہ نہ کرا دیا تو پیسے واپس۔

’ماضی میں ایک شخص نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کردیا تھا‘

عمران خان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وہ اتنا بااختیار وزیراعظم تھا کہ اس نے وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، اس وقت کی حکومت ایک شخص کے گرد گھومتی تھی، جس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کردیا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے نہیں کرنے دیں گے، کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنانا ہے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

شفیع جان کا ٹی ٹی پی کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے سے گریز، سلمان اکرم راجا نے مؤقف رد کردیا

بنگلہ دیش میں اپوزیشن جماعت بی این پی کے رہنما عزیز الرحمان فائرنگ سے جاں بحق

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟