سینیئر وکیل میاں علی اشفاق نے کہا ہے کہ اگر وہ چاہتے تو محض 2 منٹ میں اپنا وکالتی لائسنس بحال کروا سکتے تھے، تاہم انہوں نے جان بوجھ کر اس مقصد کے لیے عدالت میں کوئی پٹیشن دائر نہیں کی۔
میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ لائسنس کی بحالی کے لیے ان کے پاس متعدد قانونی اور دیگر ذرائع موجود تھے، جن میں سیاسی بنیادوں پر بحالی بھی شامل ہے، مگر انہوں نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔
میاں علی اشفاق کے مطابق انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں جو پٹیشن دائر کی ہے، اس کا مقصد ذاتی فائدہ یا لائسنس کی بحالی نہیں بلکہ پوری وکلا برادری کے لیے ایک اصولی نکتہ اجاگر کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بار کونسل نے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس بحال کر دیا
انہوں نے کہا کہ یہ پٹیشن اس لیے فائل کی گئی ہے تاکہ اگر کوئی شخص سیدھے اور قانونی طریقے سے کام کرے، مکمل قانونی تعلیم رکھتا ہو اور بطور وکیل اپنے حقوق سے آگاہ ہو تو اس کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم ایگزیکٹو کمیٹی کے کسی آؤٹ گوئنگ رکن کی جانب سے اس نوعیت کا حکم جاری کرنا نہ صرف واضح طور پر غیر قانونی ہے بلکہ دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف بھی ہے۔
مزید پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ کیس: وکلا کے درمیان تنازع نے نیا رخ اختیار کر لیا
ان کے مطابق ایسے رکن کے پاس کسی بھی قسم کا حکم جاری کرنے کا نہ تو قانونی اختیار تھا اور نہ ہی کوئی آئینی استحقاق، لہٰذا اس طرح کا فیصلہ سرے سے ہی غیر مؤثر اور کالعدم ہے۔
میاں علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی قانونی جدوجہد ذاتی نہیں بلکہ وکلا برادری کے حقوق، قانون کی بالادستی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے تحفظ کے لیے ہے۔













