نیدرلینڈز میں کام کے اوقات سے ہٹ کر ای میل بھیجنے کا ایک واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جس نے یورپی ممالک میں ورک لائف بیلنس کی مضبوط روایت کو اجاگر کر دیا ہے۔
ایک ایکس صارف کے مطابق اس نے صبح 6 بجے دفتر سے متعلق ای میل بھیجی جس پر کمپنی کی انتظامیہ نے نہ صرف میٹنگ طلب کی بلکہ ملازم سے یہ جاننے کی کوشش بھی کی کہ آیا وہ کسی غیر ضروری کام کے دباؤ میں تو نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دفتر میں کرسی پر مسلسل بیٹھ کر کام کرنا کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے؟
صارف کے مطابق انتظامیہ نے اس بات پر باقاعدہ معذرت کی کہ کہیں ان کے رویے یا کام کے طریقۂ کار سے ملازم کو یہ تاثر نہ ملا ہو کہ اسے معمول سے زیادہ کام کرنا چاہیے۔ اس واقعے کو سوشل میڈیا صارفین نے نیدرلینڈز میں ملازمین کی فلاح اور ذہنی صحت کو دی جانے والی ترجیح کی واضح مثال قرار دیا۔
First time I sent a work email at 6AM in the Netherlands, they called a meeting to discuss whether I was experiencing unnecessary work pressure of any kind, and they apologised if they gave me that impression 😂😂 https://t.co/MhO2Pa1aEB
— Equivocator™ (@Oluwanonso_Esq) January 5, 2026
یہ بیان ایک پوسٹ کے جواب میں سامنے آیا تھا جس میں نیدرلینڈز میں کام کرنے والے ایک ملازم نے دعویٰ کیا کہ اس کے امریکی مینیجر نے اسے شام 5 بجے لاگ آف کرنے اور دفتر کے اوقات کے بعد کام نہ کرنے پر باضابطہ سرزنش کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کے لیے ہفتے میں 4 دن کام اور اوقات کار بھی کم کرنے کا اعلان
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے صارفین نے اپنے تجربات شیئر کیے۔ کئی افراد نے یورپ، بالخصوص نیدرلینڈز اور بیلجیم میں ورک لائف بیلنس کی تعریف کی جبکہ امریکا اور ایشیا کے بعض ممالک میں طویل اوقاتِ کار پر تنقید کی۔














