بنگلہ دیش میں آئندہ عام انتخابات سے قبل اسلامی جماعتوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم پر مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
جماعتِ اسلامی اور اسلامی اندولن بنگلہ دیش کے درمیان جاری سیٹ ایڈجسٹمنٹ مذاکرات کئی دور ہونے کے بعد اب تعطل کا شکار ہیں۔
مذاکرات میں سب سے بڑا اختلاف قومی اسمبلی کی 300 نشستوں کی تقسیم پر سامنے آیا ہے، جس کے باعث دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کو مداخلت کرتے ہوئے بات چیت دوبارہ شروع کرنا پڑی۔
انتخابی شیڈول کے مطابق امیدواروں نے 29 دسمبر تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے تھے، جبکہ کاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ 20 جنوری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات: امن و امان کے لیے سیکیورٹی اداروں کو غیر معمولی اختیارات تفویض
اتحادی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس ٹائم لائن نے باہمی اختلافات جلد حل کرنے کے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلامی اندولن نے ابتدائی طور پر 100 سے زائد نشستوں کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ دیگر اتحادی جماعتیں بھی بڑی تعداد میں نشستوں کی خواہاں تھیں۔
اس دوران نیشنل سٹیزنز پارٹی سمیت دیگر چھوٹی جماعتوں کی اتحاد میں شمولیت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور بعض حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔
جماعتِ اسلامی نے بعد ازاں اسلامی اندولن کو 35 سے 40 نشستیں دینے اور دیگر اتحادیوں کو کم تعداد میں نشستیں دینے کی تجویز پیش کی، تاہم اس پیشکش پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات سے قبل سی آئی ڈی اور ٹک ٹاک کا تعاون بڑھانے پر اتفاق
اسلامی اندولن کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ جماعتِ اسلامی این سی پی کو غیر متناسب اہمیت دے رہی ہے، جس کے باعث ان حلقوں کی اہمیت کم ہو رہی ہے جہاں طویل عرصے سے تیاری کی جا رہی تھی۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی کارکنان کی ناراضی دیکھنے میں آئی ہے۔
مذاکرات کے طول پکڑنے کے باعث جماعتِ اسلامی اور اسلامی اندولن سمیت کئی جماعتوں نے احتیاطی طور پر بڑی تعداد میں حلقوں سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے۔
جماعتِ اسلامی نے 276 جبکہ اسلامی اندولن نے 268 نشستوں پر امیدوار نامزد کیے جبکہ دیگر اتحادی جماعتوں نے بھی درجنوں حلقوں میں نامزدگیاں جمع کرائیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش قومی انتخابات سے پہلے 28 فیصد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد
رہنماؤں کا کہنا ہے کہ متنازع نشستوں کا فیصلہ مشترکہ سروے کی بنیاد پر ہونا تھا، جو تاحال نہیں ہو سکا۔
تاہم مذاکرات کاروں کا دعویٰ ہے کہ بات چیت جاری ہے اور آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہو سکتی ہے۔
جماعتِ اسلامی کے بعض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اسلامی اندولن کا تازہ مطالبہ، جس میں 70 سے 75 نشستیں مانگی جا رہی ہیں، حقیقت پسندانہ نہیں۔
دوسری جانب اسلامی اندولن کا کہنا ہے کہ نشستوں کی تقسیم ہر حلقے میں جماعتی اہلیت اور مقبولیت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: جاتیہ سماج تانترک دل نے ریفرنڈم اور قومی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا
دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں انتخابات سے قبل اسلامی جماعتوں کے وسیع تر اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ادھر این سی پی نے جماعتِ اسلامی پر زور دیا ہے کہ پہلے اشارہ کی گئی 30 نشستوں کی تعداد کم نہ کی جائے، جبکہ امر بنگلہ دیش پارٹی کا کہنا ہے کہ اتحاد کا مجموعی ڈھانچہ، سیاسی ایجنڈا اور نشستوں کی حتمی تعداد اب تک طے نہیں ہو سکی۔
جماعتِ اسلامی کے عہدیداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ سے قبل کوئی قابلِ قبول سمجھوتہ طے پا جائے گا، جبکہ اسلامی اندولن کی قیادت کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ وہی ہو گا جو ’اسلام، قوم اور انسانیت‘ کے مفاد میں ہو۔













