آزاد جموں و کشمیر میں صحافت بظاہر ایک منظم ڈھانچے کے تحت کام کرتی دکھائی دیتی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ صحافیوں کو یہاں سب سے پہلے جسمانی اور قانونی عدم تحفظ کا سامنا ہے، جس کے بعد مالی دباؤ اور ادارہ جاتی کمزوری آزادیِ صحافت کو مزید محدود کر دیتی ہے۔ پریس کلبز اور صحافی یونینز، جو ایسے حالات میں صحافیوں کے لیے حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کر سکتی تھیں، خود انتشار، کمزور نمائندگی اور غیر فعالیت کا شکار ہیں۔
جسمانی اور قانونی عدم تحفظ
آزاد کشمیر میں صحافیوں پر حملوں اور ہراسانی کے متعدد واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صحافی نہ ریاستی اداروں سے محفوظ ہیں اور نہ ہی قانونی نظام انہیں مؤثر تحفظ فراہم کر پا رہا ہے۔
یکم اور دو مارچ 2021 کی درمیانی شب ایک کرین حادثے کی کوریج کے دوران صحافی سردار نعیم چغتائی اور سید تقی الحسن کو پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور دونوں کو گرفتار کیا گیا۔ سات سال گزرنے کے باوجود نہ نعیم چغتائی کا ضبط شدہ سامان واپس مل سکا اور نہ ہی مقدمہ کسی منطقی انجام تک پہنچا۔ اسی واقعے میں سید تقی الحسن پر حملے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا، جو بعد ازاں عدالتی حکم پر درج تو ہوئی مگر مقدمہ تاحال التوا کا شکار ہے۔
اسی طرح صحافی احتشام الحق کو پولیس گاڑی کی غلط پارکنگ کی رپورٹنگ کے ایک سال بعد گرفتار کیا گیا اور دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا، تاہم اس واقعے کی انکوائری رپورٹ آج تک منظرِ عام پر نہیں آ سکی۔ یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں صحافت کی قیمت بعض اوقات تشدد، گرفتاری اور طویل قانونی پیچیدگیوں کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔
فریڈم نیٹورک کی رپورٹ 2024–25 کے مطابق پاکستان بھر میں صحافیوں پر حملوں کے 82 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں آزاد کشمیر سے صرف ایک کیس رپورٹ ہوا۔ ماہرین کے مطابق یہ کم تعداد خطرات کی کمی نہیں بلکہ اس حقیقت کی عکاس ہے کہ یہاں صحافی یا تو ایسے واقعات رپورٹ کرنے سے گریز کرتے ہیں یا انہیں خطرات کو دستاویزی شکل دینے کا طریقہ ہی معلوم نہیں۔
پیشہ ورانہ تربیت اور حفاظتی آگاہی کی کمی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ فریڈم نیٹورک کے نمائندے فرحان جاوید کے مطابق آزاد کشمیر میں صحافی بنیادی فیلڈ سیفٹی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی سے بڑی حد تک ناواقف ہیں، اور گزشتہ کئی برسوں میں باقاعدہ تربیت صرف ایک مرتبہ فراہم کی گئی۔
جسمانی خطرات کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں صحافیوں اور میڈیا اداروں کو شدید مالی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران میڈیا مسلسل معاشی عدم استحکام کا شکار رہا ہے، جبکہ 2019 کے بعد سرکاری اشتہارات کی معطلی اور غیر شفاف تقسیم نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔
چونکہ آزاد کشمیر میں زیادہ تر میڈیا ادارے سرکاری اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اشتہارات کی بندش یا تاخیر نے ادارتی آزادی، صحافیوں کی معاشی سلامتی اور رپورٹنگ کے معیار کو براہِ راست متاثر کیا۔
اپریل 2025 میں آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے مظفرآباد سے شائع ہونے والے اخبار ڈیلی جموں و کشمیر کے خلاف جعلی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کے الزامات کے تحت پولیس کیس کا اندراج اسی مالی دباؤ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ صحافی تنظیموں کے مطابق حکومت ایک طویل عرصے سے اس اخبار کو سرکاری اشتہارات سے بھی محروم رکھے ہوئے تھی۔
بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے اشتہارات روک کر اس اخبار پر مالی دباؤ ڈالا۔ اس طرزِ عمل نے واضح کر دیا ہے کہ اشتہارات کو پالیسی یا احتساب کے بجائے کنٹرول کے ایک مؤثر آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
کمزور نمائندگی اور بکھرا ہوا ادارہ جاتی ڈھانچہ
محکمہ اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر میں 412 رجسٹرڈ صحافی موجود ہیں، تاہم خواتین کی تعداد دس فیصد سے بھی کم ہے۔ کئی اضلاع ایسے ہیں جہاں ایک بھی خاتون صحافی موجود نہیں، جس کے باعث صحافتی بیانیہ محدود اور غیر متوازن ہو جاتا ہے۔
ادارہ جاتی سطح پر پریس کلبز اور صحافی یونینز بھی اس بحران کا مقابلہ کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں۔ سنٹرل پریس کلب مظفرآباد میں 55 فعال ممبران میں سے صرف دو خواتین شامل ہیں، جبکہ 2024 کے انتخابات کے دوران پیدا ہونے والے تنازعات نے کلب کو طویل عرصے تک دو دھڑوں میں تقسیم کیے رکھا۔
صحافی یونینز کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ بعض یونینز میں ایک ہی وقت میں دو صدور اور دو جنرل سیکریٹریز کی موجودگی ادارہ جاتی انتشار کی علامت ہے۔ سینئر صحافی سید شبیر شاہ کے مطابق 1994 میں قائم ہونے والی سنٹرل یونین آف جرنلسٹس گزشتہ ایک دہائی سے عملی طور پر غیر فعال ہے، اور یونینز کا کردار اب محض بیانات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے ایگزیکٹو ممبر شکیل اقرار کے مطابق PFUJ کا مینڈیٹ آزاد کشمیر تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پاتا، جس کے باعث یہاں کے صحافی قومی سطح پر نمائندگی اور قانونی معاونت سے محروم رہتے ہیں۔
ممکنہ اصلاحات
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار زوالفقار علی کے مطابق آزاد کشمیر میں صحافت کو درپیش بحران کا حل مضبوط، خودمختار اور فعال پریس کلبز اور صحافی تنظیموں کے قیام میں مضمر ہے، جو صحافیوں کے تحفظ، قانونی معاونت، پیشہ ورانہ تربیت اور آزادیٔ اظہار کے فروغ میں حقیقی کردار ادا کر سکیں۔
مجموعی طور پر آزاد کشمیر میں صحافت ایک ایسے ماحول میں کام کر رہی ہے جہاں پہلے جسمانی اور قانونی خطرات صحافیوں کو خاموش کرتے ہیں، اور اس کے بعد مالی دباؤ انہیں مزید کمزور بنا دیتا ہے۔ اگر ان مسائل کا بروقت اور سنجیدہ حل تلاش نہ کیا گیا تو یہ بحران نہ صرف صحافیوں بلکہ عوام کے حقِ معلومات اور جمہوری عمل کے لیے بھی سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














