نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی نے اپنے حلف کے ایک ہفتے بعد ایک ٹوئٹ کے ذریعے انکشاف کیا کہ جس قرآنِ مجید پر انہوں نے حلف اٹھایا، اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت بہت نمایاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نسخہ عام قاری کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اب یہ نیویارک کے تمام شہریوں کی مشترکہ میراث کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نیویارک کی تاریخ میں نیا باب: ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کر میئر بن گئے
اپنی ٹوئٹ میں میئر ممدانی نے لکھا کہ وہ گزشتہ ہفتے آدھی رات کو اولڈ سٹی ہال سب وے اسٹیشن میں حلف اٹھانے کے دوران آرتورو شومبرگ کے اٹھارویں صدی کے قرآن پر ہاتھ رکھ کر ذمہ داریاں سنبھالنے کے اعزاز حاصل ہوا۔
When I swore in at midnight at the old City Hall subway station last week, I had the honor of doing so on Arturo Schomburg’s 18th-century Qur'an.
This manuscript was copied in Ottoman Syria, and is written in black ink with red highlighting the text's divisions – no ornate… pic.twitter.com/7wHu787LSo
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) January 6, 2026
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ نسخہ خلافت عثمانی کے عہد میں ملک شام میں نقل کیا گیا تھا، سادہ سیاہ سیاہی میں تحریر اور متن کی تقسیم کے لیے سرخ رنگ استعمال کیا گیا تھا، اور اس میں کوئی آرائشی نقوش نہیں تھے، کیونکہ یہ عام لوگوں کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
میئر ممدانی نے کہا کہ یہ تاریخی نسخہ اب شہر کی آئندہ تاریخ اور نیویارک کے تمام شہریوں کی مشترکہ میراث کا حصہ ہے اور عوام کو نیویارک پبلک لائبریری کے مرکزی شاخ میں اس نمائش کو دیکھنے کی دعوت بھی دی۔
یہ بھی پڑھیں:ظہران ممدانی نے قرآن کے 3 نسخوں پر حلف کیوں لیا؟
یاد رہے کہ نیویارک کے 34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما ظہران ممدانی آدھی رات کو سٹی ہال کے نیچے واقع پرانے سب وے اسٹیشن میں میئر کے عہدے کا حلف اٹھانے والے پہلے مسلمان، پہلے جنوبی ایشیائی اور پہلے افریقی نژاد رہنما ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے قرآنِ مجید کے دو نسخے استعمال کیے: ایک ان کے دادا کا ذاتی نسخہ اور دوسرا ایک صدیوں پرانا تاریخی نسخہ، جو شومبرگ سینٹر میں محفوظ ہے۔
Zohran Mamdani becomes the mayor of New York City after taking the oath of office at an historic, decommissioned subway station in Manhattan. Mamdani was sworn in as the first Muslim leader of America’s biggest city, placing his hand on a Quran as he took his oath. pic.twitter.com/D6qyebCa6L
— The Associated Press (@AP) January 1, 2026
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ نیویارک کے کسی میئر نے قرآن پر حلف اٹھایا، جب کہ ماضی میں زیادہ تر میئرز بائبل پر حلف اٹھاتے آئے ہیں۔ اس اقدام نے نہ صرف مذہبی تنوع کی عکاسی کی بلکہ شہر کے مسلم شہریوں کی طویل اور متحرک موجودگی کو بھی اجاگر کیا۔











