وینیزویلا پر امریکا کے حالیہ فوجی حملے اور صدر نکولس مادورو کی معزولی کے بعد امریکی اسٹریمنگ پلیٹ فارم پرائم ویڈیو کی مقبول سیریز جیک رائن ایک بار پھر خبروں میں ہے اور اس کا ایک پرانا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔
یہ کلپ سیزن 2 (2019) کا ہے، جس میں اداکار جان کراسنسکی سی آئی اے تجزیہ کار جیک رائن کے کردار میں ایک لیکچر کے دوران یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ کون سے ممالک ہو سکتے ہیں۔ جہاں طلبا روس اور چین کا نام لیتے ہیں، وہیں جیک رائن وینیزویلا کو بھی ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں، جس کی وجہ اس کے قدرتی وسائل اور جغرافیائی محلِ وقوع کو بتایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آن لائن شاپنگ کا پہلا آرڈر، خوشی سے نہال خواتین کی ویڈیو وائرل
کلپ میں جیک رائن کہتے ہیں کہ وینیزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو سعودی عرب اور ایران سے بھی زیادہ ہیں، جبکہ سونے کے ذخائر افریقہ کی تمام کانوں سے زیادہ بتائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ملک شدید انسانی بحران کا شکار ہے، جس پر وہ سوال اٹھاتے ہیں۔
جیک رائن وینیزویلا کو عالمی سطح پر ایک ‘ناکام ریاست’ قرار دیے جانے کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ملک امریکا کے قریب ہونے کے باعث جدید نیوکلیئر میزائلوں کی رینج میں آتا ہے، جو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ کلپ اس وقت وائرل ہوا جب امریکا نے وینیزویلا میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق دونوں پر نارکو دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: دوزانو بیٹھے دعا مانگتے کرسٹیانو رونالڈو کا کلپ وائرل ہوگیا
سیریز کے شریک خالق کارلٹن کیوز نے اس مماثلت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کہانی کا مقصد پیش گوئی کرنا نہیں بلکہ اسے حقیقت کے قریب اور قابلِ یقین بنانا تھا۔ ان کے مطابق جب کہانی حقیقی جغرافیائی سیاسی حالات پر مبنی ہو تو بعض اوقات حقیقت فکشن سے ملتی جلتی محسوس ہونے لگتی ہے۔
کارلٹن کیوز نے مزید کہا کہ وینیزویلا ایک طویل عرصے سے ایسا ملک رہا ہے جہاں جمہوری اقدار، معاشی مسائل اور عالمی طاقتوں کے مفادات آپس میں ٹکراتے رہے ہیں، اور کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات سب سے زیادہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔












