گلوبل ویلیو چین اور پاکستان

جمعرات 8 جنوری 2026
author image

راحیل نواز سواتی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلوبل ویلیو چین (Global Value Chain – GVC) جدید عالمی معیشت کا وہ ڈھانچہ ہے جس میں مصنوعات کی تیاری کا پورا عمل ایک ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ مختلف مراحل مختلف ممالک میں مکمل ہوتے ہیں۔ کسی بھی پروڈکٹ کا سفر ایک خیال یا تصور سے شروع ہو کر ڈیزائن، خام مال کی فراہمی، پرزہ جات کی تیاری، اسمبلنگ، مارکیٹنگ، ترسیل اور بعد از فروخت خدمات تک پھیلا ہوتا ہے۔ ان تمام مراحل میں جہاں جہاں قدر (Value) میں اضافہ ہوتا ہے، وہی گلوبل ویلیو چین کا حصہ بنتا ہے۔ اس نظام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ ہر ملک اپنی مہارت، وسائل اور مسابقتی برتری کے مطابق کسی ایک یا چند مراحل میں شامل ہو کر عالمی معیشت سے جڑ جاتا ہے۔

ماضی میں کمپنیاں عموماً اپنی مصنوعات ایک ہی ملک میں تیار کرتی تھیں، مگر گلوبلائزیشن، ٹیکنالوجی اور لاگت میں کمی کی جستجو نے اس انداز کو بدل دیا۔ آج ایک اسمارٹ فون، گاڑی یا حتیٰ کہ ایک سادہ لباس بھی مختلف ممالک کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ خام مال کسی ایک خطے سے آتا ہے، پرزہ جات کسی دوسرے ملک میں بنتے ہیں، اسمبلنگ کسی تیسرے ملک میں ہوتی ہے جبکہ ڈیزائن، برانڈنگ اور مارکیٹنگ عموماً ترقی یافتہ معیشتوں میں انجام پاتی ہے۔ اس طرح ایک ہی پروڈکٹ کئی معیشتوں کو جوڑ دیتی ہے اور عالمی تجارت صرف تیار شدہ اشیاء کے بجائے ’خدمات کی تجارت‘ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

گلوبل ویلیو چینز کے ذریعے ممالک محض اشیاء کی نہیں بلکہ علم، مہارت اور تکنیکی تجربے کی بھی تجارت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب GVCs میں درآمدات کی اہمیت برآمدات کے برابر بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ جو ممالک جدید ٹیکنالوجی، مشینری اور خدمات درآمد کرتے ہیں، وہ انہیں اپنی مقامی پیداوار میں شامل کر کے زیادہ قدر والی مصنوعات تیار کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ چین، جنوبی کوریا اور ویتنام اس کی نمایاں مثالیں ہیں جہاں کم لاگت پیداوار کو اعلیٰ ٹیکنالوجی اور عالمی نیٹ ورکس کے ساتھ جوڑ کر غیر معمولی معاشی ترقی حاصل کی گئی۔

گلوبل ویلیو چینز ترقی کے لیے اس لیے اہم ہیں کہ یہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ، روزگار کی تخلیق اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ایسے ممالک جو GVCs کو اپناتے ہیں، نہ صرف تیز رفتاری سے ترقی کرتے ہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور مہارتیں بھی درآمد کرتے ہیں، جس سے ان کی معیشت زیادہ متنوع اور مضبوط ہوتی ہے۔ اس نظام کے تحت ممالک کم قدر والے مراحل سے آگے بڑھ کر زیادہ قدر رکھنے والے مراحل، جیسے ڈیزائن، تحقیق و ترقی اور برانڈنگ، کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔ یہی عمل ترقی پذیر ممالک کو ترقی کے مراحل تیزی سے طے کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

تاہم، گلوبل ویلیو چینز کے ساتھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ معیشتوں کا باہمی انحصار بڑھنے کے باعث کسی ایک خطے میں آنے والا بحران پوری سپلائی چین کو متاثر کر سکتا ہے، جیسا کہ کووِڈ-19 وبا یا حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں میں دیکھا گیا۔ اسی تناظر میں آج دنیا بھر میں محض کارکردگی کے بجائے لچک اور پائیداری پر زور دیا جا رہا ہے، جس کا ذکر گلوبل ویلیو چین ڈیولپمنٹ رپورٹ 2025 میں بھی نمایاں طور پر کیا گیا ہے۔

اگر پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو ملک اس وقت گلوبل ویلیو چین میں ایک محدود اور نسبتاً کم قدر والے مقام پر کھڑا ہے۔ پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر مشتمل ہے، جہاں زیادہ تر توجہ خام مال یا ابتدائی پروسیسنگ تک محدود رہتی ہے۔ دھاگہ، کپڑا یا نیم تیار گارمنٹس برآمد کر دی جاتی ہیں، جبکہ اصل منافع ڈیزائن، برانڈنگ اور ریٹیل کے مراحل میں بیرونِ ملک حاصل کیا جاتا ہے۔ یہی صورتحال زراعت، کھیلوں کے سامان اور دیگر شعبوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے اصل موقع یہی ہے کہ وہ گلوبل ویلیو چین میں اپنی پوزیشن کو بہتر بنائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک محض کم لاگت پیداوار تک محدود رہنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی اور مہارتوں میں سرمایہ کاری کرے۔ ٹیکسٹائل میں برانڈڈ ملبوسات، زراعت میں فوڈ پروسیسنگ، آئی ٹی اور سافٹ ویئر سروسز میں عالمی نیٹ ورکس سے جڑنا، اور ایس ایم ایز کو عالمی سپلائی چین کا حصہ بنانا وہ راستے ہیں جن سے پاکستان زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تجارتی سہولت کاری، ڈیجیٹلائزیشن، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور پالیسیوں کا تسلسل بھی ناگزیر ہے۔

خلاصہ یہ کہ گلوبل ویلیو چین جدید عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے۔ وہ ممالک جو اس حقیقت کو سمجھ کر درست حکمتِ عملی اپناتے ہیں، نہ صرف اپنی مسابقت بڑھاتے ہیں بلکہ پائیدار اور جامع ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی وقت آ گیا ہے کہ وہ گلوبل ویلیو چین کو محض ایک نظری تصور کے بجائے عملی معاشی حکمتِ عملی کے طور پر اپنائے، تاکہ عالمی معیشت میں اس کا کردار مضبوط اور مؤثر ہو سکے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp