آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے یہودیوں کے خلاف تعصب کے معاملے کی تحقیقات کے لیے وسیع پیمانے پر قومی انکوائری کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان اس واقعے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا جس میں 2 مسلح افراد نے بونڈائی بیچ پر ایک یہودی تعطیلاتی تقریب پر فائرنگ کر کے 15 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا فائرنگ واقعہ: مسلح شخص کو قابو کرنے والے شہری کے چرچے، اقدام کی تعریف
انکوائری رائل کمیشن کی شکل میں ہوگی، جو آسٹریلیا میں منعقد کی جانے والی سب سے بڑی اور آزاد عوامی تحقیقات میں سے سب سے اہم نوعیت کی ہوتی ہے۔
البانیز نے جمعرات کو کیمپرا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی قیادت سابق ہائیکورٹ جج ورجینیا بیل کریں گی۔
PM Anthony Albanese announces a Commonwealth Royal Commission to “tackle anti-semitism” after the Bondi Beach terrorist attack. It’s a backflip. He says he has “listened.” Commissioner Virginia Bell AC must report back by the first anniversary of the attack that killed 15 people. pic.twitter.com/RtOmknJtNc
— Hugh Riminton (@hughriminton) January 8, 2026
البانیز کے مطابق، یہ انکوائری عام طور پر یہودی مخالف رجحانات کی نوعیت، وسعت اور محرکات کے ساتھ ساتھ بونڈائی میں ہونے والے بڑے فائرنگ واقعے کے حالات کی بھی تحقیقات کرے گی۔
اس کے علاوہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سفارشات، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے، اور انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے طریقے بھی تجویز کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: بوندی فائرنگ کیس: بھارتی نژاد نوید اکرم پر 15 قتل اور دہشتگردی سمیت 59 الزامات عائد
رپورٹ 14 دسمبر تک پیش کی جائے گی، جو اسی دن ہوگی جب ایک سال قبل سڈنی کے ایک معروف مقام پر ہنوکا کی تقریب کے دوران یہ فائرنگ واقع ہوئی تھی۔
البانیز نے مذکورہ حملے کو ایک یہودی مخالف دہشت گردانہ حملہ قرار دیا تھا، جو آسٹریلوی یہودیوں کو نشانہ بنانے کے لیے آئسس سے متاثر ہو کر کیا گیا، آسٹریلوی سر زمین پر اب تک کا سب سے مہلک حملہ تھا۔
اس واقعے کے زندہ بچ جانے والے 24 سالہ ملزم نوید اکرم کو قتل اور دہشت گردی سمیت متعدد الزامات کا سامنا ہے، وہ ابھی تک کوئی جوابدہی داخل نہیں کر سکا۔
مزید پڑھیں: سڈنی میں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا، آسٹریلوی وزیراعظم کی فائرنگ واقعہ کی شدید مذمت
اس کے والد ساجد اکرم اس واقعے کے دوران پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا کہ سیاستدانوں، یہودی رہنماؤں اور دیگر عوامی شخصیات بشمول معروف کھلاڑیوں نے ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں ریاستی سطح کی انکوائری کے بجائے قومی رائل کمیشن کے انعقاد کا مطالبہ کیا تھا۔
البانیز نے پہلے کہا تھا کہ اس نوعیت کی وسیع پیمانے پر انکوائری زیادہ وقت لے سکتی ہے، لیکن جمعرات کو انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ وہ دباؤ میں آ کر اپنی رائے بدل گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: سڈنی واقعے پر پاکستان کے خلاف منظم ڈس انفارمیشن پھیلائی گئی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
’میں نے سنا، اور جمہوریت میں یہ ایک اچھی بات ہے۔‘
اس سے پہلے، البانیز نے فائرنگ کے بعد آسٹریلیا کی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا، جسے رائل کمیشن کا حصہ بنایا جائے گا۔
وہ اس حملے کے جواب میں قوانین سخت کرنے اور نفرت انگیز بیانات دینے والوں کو جرم قرار دینے کے لیے بھی قانون سازی کا منصوبہ رکھتے ہیں، کیونکہ حکومت کے مطابق اکثر ایسے بیانات قانونی کارروائی کے معیار پر پورے نہیں اُترتے۔












