امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے لیے مدعو کیا جا رہا ہے، حالانکہ چند دن پہلے ہی ٹرمپ نے کولمبیا کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات کی باتیں کی تھیں۔
ٹرمپ اور پیٹرو کے درمیان یہ پہلا براہِ راست ٹیلی فون رابطہ اس کے چند روز بعد ہوا جب ٹرمپ نے کولمبیا کی حکومت پر نشہ آور ادویات (کوکین) کے امریکی منڈی تک پہنچانے میں کردار کے الزامات عائد کیے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے تعلقات اور باہمی اختلافات پر بات چیت کی ہے، جسے پیٹرو کے دفتر نے دلچسپی اور باعزت مکالمہ قرار دیا۔
پہلے کیا حالات تھے؟
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ کولمبیا کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی ’sounds good’ یعنی ’اچھا خیال لگتا ہے‘ اور یہ تبصرہ اس تناظر میں آیا جب امریکا نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو گرفتار کیا تھا، جو بعد میں امریکا لائے گئے تھے تاکہ وہ منشیات اور اسلحے کے الزامات کا سامنا کریں۔
یہ بھی پڑھیے امریکا نے منشیات فروشوں کی معاونت کا الزام لگا کر کولمبیا کے صدر اور اہل خانہ پر پابندی لگا دی
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پیغام میں کہا ’یہ بہت بڑا اعزاز تھا کہ میں نے کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو سے بات کی، جنہوں نے منشیات اور دیگر اختلافات کے بارے میں وضاحت کی۔ میں ان کے فون کال اور لہجے کا شکر گزار ہوں اور جلد ملاقات کا منتظر ہوں۔ ‘
جبکہ پیٹرو نے اپنے حامیوں سے کہا کہ انہوں نے تعلقات میں براہِ راست بات چیت اور دوبارہ ڈائیلاگ شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔
تناؤ کے پسِ منظر میں تبدیلی
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی پالیسی اور بیانات نے پچھلے مہینوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کی تھی۔
ٹرمپ نے پیٹرو پر نشہ آور ادویات کے کاروبار میں کردار کے الزام عائد کیے۔ امریکا نے پیٹرو اور ان کے اہل خانہ پر سزائیں اور پابندیاں لگائیں۔
یہ بھی پڑھیے کولمبیا سے کیوبا تک، وینزویلا کے بعد کونسے ممالک امریکی حملے کا شکار ہوسکتے ہیں؟
بعض رپورٹس میں ٹرمپ کی جانب سے پیٹرو کی ویزا منسوخی بھی شامل ہے، جب پیٹرو نے نیویارک میں دائیں بازو کے بیان پر شدید ردعمل دکھایا تھا۔
لیکن حالیہ فون کال اور مدعوئی نے ایک غیر متوقع سفارتی تبدیلی کی نشاندہی کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
عالمی و علاقائی ردعمل
کولمبیا میں عوام اور سیاسی حلقوں نے ٹرمپ کے سخت بیانات اور امریکا کی منشیات سے متعلق مہم پر یکسر ردعمل بھی ظاہر کیا ہے، جس میں بعض جگہوں پر احتجاج بھی ہوئے۔
دونوں ممالک کے سامنے اب ایک موقع ہے کہ وہ دوطرفہ مسائل پر بات چیت شروع کریں اور کشیدگی کو کم کریں، خاص طور پر جب امریکا نے منشیات کے خلاف کارروائیاں اور علاقائی پالیسی دونوں ممالک کی توجہ کا مرکز رہیں ہیں۔












