بلوچستان میں گزشتہ سال دہشتگردوں کے خلاف 90 ہزار خفیہ آپریشن کیے گئے ہیںِ اس دوران 700 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ 400 سیکیورٹی اہلکار اور شہری بھی اس آپریشن کے دوران شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا، سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں رواں سال 955 دہشتگرد ہلاک
کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اعتزاز گورایہ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی صورتحال، دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں اور حالیہ پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
خفیہ آپریشنز اور نقصانات کی تفصیل
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ گزشتہ برس بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مجموعی طور پر 90 ہزار خفیہ آپریشنز انجام دیے، جن کے دوران 700 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ تاہم ان کارروائیوں کے دوران 400 سیکیورٹی اہلکار اور شہری بھی شہید ہوئے، جو ایک بڑا قومی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس جنگ میں دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
دہشتگردی میں کمی اور نئی سیکیورٹی حکمت عملی
حمزہ شفقات کے مطابق سال 2025 کے آخری تین ماہ کے دوران دہشت گردانہ حملوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو مؤثر سیکیورٹی حکمت عملی اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں بڑا انسدادِ دہشتگردی آپریشن، مرکزی نیٹ ورک بے نقاب، خطرناک اسلحہ برآمد
انہوں نے بتایا کہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک نیا ادارہ نیفٹیک قائم کیا گیا ہے، جسے مارچ تک بلوچستان کے تمام اضلاع میں فعال کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پورے صوبے کو اے ایریا قرار دے دیا گیا ہے تاکہ نگرانی اور کارروائیوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اہم گرفتاری اور اسلحہ برآمدگی
پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ساجد احمد عرف شاویز نامی دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزم اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ اور تربت یونیورسٹی میں استاد بھی رہ چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کی گاڑی سے جدید اسلحہ، خودکش جیکٹ اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا، جو پنجگور سے تربت منتقل کیا جا رہا تھا، جبکہ اسلحہ ایران سے اسمگل ہو کر پاکستان لایا گیا تھا۔
کالعدم تنظیموں سے روابط
اعتزاز گورایہ کے مطابق ساجد تربت کا رہائشی ہے اور ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ رہا ہے۔ وہ تربت میں ریکی، سہولت کاری اور دہشتگردی کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا، جبکہ افغانستان میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر دوستین سے بھی رابطے میں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آرمی کے خفیہ آپریشن جو دہشتگردی کے نیٹ ورک تباہ کر رہے ہیں
انہوں نے مزید بتایا کہ ساجد کا تعلق بلوچ یکجہتی کمیٹی سے بھی رہا اور وہ نوجوانوں کو شدت پسند تنظیموں میں شامل کرنے کے عمل میں سرگرم تھا۔
نوجوانوں میں شدت پسندی کا رجحان
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ تشویشناک امر یہ ہے کہ پڑھے لکھے افراد اور کم عمر نوجوان بھی شدت پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق بی ایس او اور بی وائے سی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں مسلح تنظیموں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
کم عمر ملزمان کی گرفتاری
انہوں نے بتایا کہ خاران سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ سرفراز کو، جو بی وائے سی سے وابستہ تھا، گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ جہانزیب عرف مہربان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جو بساکھ بروہی سے منسلک رہا اور نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف لے جانے میں کردار ادا کرتا رہا۔ ایک اور 18 سالہ نوجوان بہزل کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
لاجسٹک سہولتیں اور تشویشناک انکشافات
اعتزاز گورایہ نے انکشاف کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں کم عمر نوجوانوں کو نہ صرف اپنی کارروائیوں میں استعمال کرتی ہیں بلکہ ان سے پیسے، ادویات اور دیگر لاجسٹک سہولتیں بھی فراہم کروائی جاتی ہیں۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی سرجیکل ادویات دہشتگردوں تک پہنچ رہی ہیں، جس پر سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔
اصلاح اور بحالی کا عمل
انہوں نے کہا کہ گرفتار نوجوانوں کی اصلاح اور بحالی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ انہیں دوبارہ معاشرے کا مفید شہری بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پولیس اور سی ٹی ڈی دہشتگردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ انتہاپسندی کے اسباب کو ختم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔
حکام کا عزم
پریس کانفرنس کے اختتام پر حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام، دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔














