اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کا حجم 3.59 ارب ڈالر رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 16.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ میں یہ رقم 3.1 ارب ڈالر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں کی بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں بڑا اضافہ ریکارڈ
ماہانہ بنیادوں پر ترسیلاتِ زر میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ نومبر میں یہ رقم 3.2 ارب ڈالر تھی۔
مالی سال 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران ترسیلاتِ زر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 17.8 ارب ڈالر تھیں، یوں 11 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
Workers’ remittances during December 2025 recorded at US$ 3.6 billion, showing a YoY growth of 16.5 percent.https://t.co/rPOvn9Dr8N#SBPRemittances pic.twitter.com/T1KscQEDLA
— SBP (@StateBank_Pak) January 9, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق ترسیلاتِ زر میں اضافے کی وجوہات میں گزشتہ برسوں میں افرادی قوت کی برآمدات میں اضافہ، رسمی اور غیر رسمی زرِ مبادلہ مارکیٹ کے فرق میں کمی اور ترسیلاتِ زر کے لیے مراعاتی پیکج کا تسلسل شامل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مالی سال 2026 کے لیے ترسیلاتِ زر کا ہدف 41 ارب ڈالر برقرار رکھا گیا ہے، جو مالی سال 2025 کے 38 ارب ڈالر کے مقابلے میں 7.5 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں:نئے سال کا شاندار آغاز، اسٹاک مارکیٹ 176 ہزار پوائنٹس کی تاریخ ساز بلندی پر
ترسیلاتِ زر ملک کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دینے، معاشی سرگرمیوں میں بہتری لانے اور ترسیلات پر انحصار کرنے والے گھرانوں کی آمدنی میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
دوسری جانب حکومت ترسیلاتِ زر کے فروغ کے لیے مراعات اور رسمی ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ مسلسل نمو کو یقینی بنایا جا سکے اور معاشی استحکام میں ان کے کردار کو مضبوط کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: مہنگائی کا دباؤ: پاکستانیوں کو بنیادی ضروریات نے جکڑ لیا، ترسیلات زر پر انحصار بڑھ گیا
اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو (پی آر آئی) 2009 سے رسمی ذرائع کے ذریعے ترسیلاتِ زر کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔
اس اقدام کے نتیجے میں پی آر آئی نیٹ ورک سے منسلک مالیاتی اداروں کی تعداد 2009 میں تقریباً 25 سے بڑھ کر 2024 میں 50 سے زائد ہو گئی ہے۔
ترسیلاتِ زر کی تفصیل
دسمبر 2025 میں سعودی عرب سے سب سے زیادہ ترسیلات موصول ہوئیں، جہاں سے بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 813 ملین ڈالر وطن بھیجے۔
یہ رقم سالانہ بنیادوں پر 6 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 8 فیصد زیادہ رہی۔
متحدہ عرب امارات سے ترسیلات میں سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد اضافہ ہوا اور یہ رقم 631 ملین ڈالر سے بڑھ کر 726 ملین ڈالر ہو گئی۔
مزید پڑھیں:آنے والے دنوں میں کتنی افرادی قوت باہر جا سکتی ہے، پاکستان کی ترسیلات زر میں کتنا اضافہ ہوگا؟
برطانیہ سے دسمبر 2025 میں 560 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو نومبر کے مقابلے میں 16 فیصد جبکہ سالانہ بنیادوں پر 28 فیصد زیادہ ہیں۔
امریکا سے آنے والی ترسیلات 302 ملین ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیادوں پر 1 فیصد کم لیکن ماہانہ بنیادوں پر 9 فیصد زیادہ ہیں۔
یورپی یونین کے ممالک سے ترسیلاتِ زر 499 ملین ڈالر رہیں، جن میں سالانہ بنیادوں پر نمایاں 39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔













