پاکستان سمیت 23 اسلامی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اسرائیلی اہلکار کے 6 جنوری کو صومالی لینڈ کے غیر قانونی دورے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا متنازع فیصلہ کیوں کیا؟ٖ
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ دورہ صومالیہ کی وفاقی جمہوریہ کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی اتحاد کے لیے ایک غیر ذمہ دارانہ چیلنج ہے۔ اسلامی ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے یا اس کے ساتھ کسی بھی سطح پر روابط بڑھانے کی کوششیں علیحدگی پسند ایجنڈے کو فروغ دیتی ہیں، جو پہلے ہی کشیدہ خطے میں مزید تناؤ اور عدم استحکام پیدا کر سکتی ہیں۔
بیان میں صومالیہ کے ساتھ مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صومالیہ کی خودمختاری، قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے اور صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے متعلق کسی بھی فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔ اسلامی ممالک نے اس اقدام کو نہ صرف افریقا کے ہارن کے خطے میں خطرناک قرار دیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے منفی اثرات پر خبردار کیا۔
مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ اسرائیل کا یہ طرزِ عمل فلسطین کے حوالے سے اس کی پالیسیوں سے مطابقت رکھتا ہے، جہاں وہ طویل عرصے سے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اسلامی ممالک نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس غیر قانونی اقدام کا نوٹس لے اور صومالیہ کی خودمختاری کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔
مزید پڑھیں: صومالی لینڈ کا تنازع سنگین عالمی بحران میں بدل گیا، آخر یہ معاملہ ہے کیا؟
اس اعلامیے میں شامل ممالک میں الجزائر، بنگلہ دیش، کوموروس، جبوتی، مصر، گیمبیا، انڈونیشیا، ایران، اردن، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائجیریا، عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکی، یمن اور او آئی سی شامل ہیں۔













