گوگل نے امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سانتا باربرا میں واقع اپنی تنصیب میں دنیا کے طاقتور ترین کوانٹم کمپیوٹرز میں سے ایک ولو متعارف کرا دیا ہے۔ یہ جدید نظام گوگل کے کوانٹم اے آئی لیب نے تیار کیا ہے اور اس کا مقصد ایسے پیچیدہ سائنسی مسائل حل کرنا ہے جنہیں روایتی کمپیوٹر مناسب وقت میں حل کرنے سے قاصر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی بی ایم کا نیا کوانٹم کمپیوٹر کب لانچ ہوگا؟
روایتی کمپیوٹرز کے برعکس ولو میں نہ کی بورڈ ہے اور نہ ہی مانیٹر۔ یہ ایک جھاڑ نما ڈھانچے میں نصب ہے اور اسے تقریباً مطلق صفر درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے۔ اس کے مرکز میں 105 کیوبٹس پر مشتمل کوانٹم چِپ موجود ہے، جو معلومات کی پروسیسنگ میں عام کمپیوٹرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہے۔
گوگل کے مطابق ولو بعض پیچیدہ حسابی عمل چند منٹوں میں انجام دے سکتا ہے، جبکہ دنیا کے تیز ترین روایتی کمپیوٹرز کو یہی کام کرنے میں کھربوں سال لگ سکتے ہیں۔
گوگل ولو کی خصوصیات
گوگل کوانٹم اے آئی کے چیف سائنٹسٹ ہارتمٹ نیون کے مطابق ولو اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ کوانٹم کمپیوٹر ایسے مسائل حل کر سکتا ہے جو کلاسیکل کمپیوٹرز کے بس سے باہر ہیں۔ کوانٹم کمپیوٹنگ کو طبی تحقیق، توانائی کے مؤثر استعمال، زراعت اور موسمیاتی ماڈلنگ جیسے شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں پیچیدہ سمیولیشنز کی ضرورت ہوتی ہے۔
ولو نے پہلے ہی اہم سنگ میل عبور کر لیے ہیں، جن میں کوانٹم ایکوز الگورتھم جیسے بینچ مارک مسائل شامل ہیں۔ اس قسم کی کمپیوٹیشن مالیکیولز کے رویے کی نقل میں مدد دیتی ہے، جو طب میں ایم آر آئی سے متعلق طریقۂ علاج سے جڑی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل نے نیا کوانٹم کمپیوٹنگ الگورتھم تیار کرلیا، آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں انقلاب بپا کرنے کا اعلان
گوگل کے مطابق ولو میں جدید ترین ایرر کریکشن تکنیکیں شامل کی گئی ہیں اور یہ دنیا کا پہلا کوانٹم سسٹم ہے جس میں قابلِ تکرار ایرر کریکشن کی صلاحیت موجود ہے۔ کیوبٹس کی شور کے لیے غیر معمولی حساسیت کے باعث ایرر کریکشن کو طویل عرصے سے کوانٹم کمپیوٹنگ کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل المدتی ہدف کوانٹم سسٹمز کو 1 ملین کیوبٹس تک پہنچانا ہے۔ برطانیہ کے نیشنل کوانٹم ٹیکنالوجی پروگرام کے پیٹر نائٹ کے مطابق ولو ایرر کریکشن اور کارکردگی کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے، اگرچہ زیادہ تر کوانٹم کمپیوٹرز اب بھی تجرباتی مرحلے میں ہیں۔














